محرم الحرام: پنجاب پولیس کا جامع سکیورٹی پلان فائنل، ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد اہلکار تعینات

لاہور:(پنجاب پوسٹ) پنجاب پولیس نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور عزاداری جلوسوں و مجالس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صوبہ بھر کا جامع اور مؤثر سکیورٹی پلان حتمی شکل دے دی ہے۔ آئی جی پنجاب عبدالکریم کے مطابق اس سال محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات کو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مزید مؤثر اور مربوط بنایا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ عشرہ محرم الحرام کے دوران لاہور سمیت پورے پنجاب میں مجموعی طور پر 47 ہزار 280 مجالس اور عزاداری جلوسوں کو سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔ ان میں 37 ہزار 868 مجالس جبکہ 9 ہزار 412 عزاداری جلوس شامل ہیں۔ ان تقریبات کی حفاظت کے لیے ایک لاکھ 24 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق مجالس کی سکیورٹی پر 41 ہزار 200 سے زائد جبکہ عزاداری جلوسوں کی حفاظت پر 73 ہزار 400 سے زائد افسران اور اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 9 ہزار 500 سے زائد اہلکار جلوسوں کے روٹس، مجالس اور حساس مقامات کے اطراف گشت اور نگرانی کے فرائض انجام دیں گے۔محرم سکیورٹی پلان میں سی ٹی ڈی، سپیشل برانچ، ٹریفک پولیس، ڈولفن اسکواڈ، پیرو فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ سیف سٹیز اتھارٹی کے جدید کیمروں کے ذریعے مجالس اور جلوسوں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جائے گی جبکہ حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے، میٹل ڈیٹیکٹرز اور واک تھرو گیٹس نصب کیے جائیں گے۔

آئی جی پنجاب نے تمام اضلاع کے پولیس افسران کو ہدایت کی ہے کہ امن کمیٹیوں، علمائے کرام، کمیونٹی لیڈرز اور جلوسوں و مجالس کے منتظمین کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کو بروقت حل کیا جا سکے۔ انہوں نے بین المسالک ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ وارانہ نفرت یا انتشار پھیلانے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔پنجاب پولیس کے مطابق طے شدہ روٹس اور مقامات کے علاوہ کسی بھی جگہ مجالس یا جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہوگی جبکہ دفعہ 144 اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا۔ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھی جائے گی جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے جاری تمام سکیورٹی ایس او پیز پر من و عن عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد، اشتعال انگیزی، وال چاکنگ، بینرز اور پوسٹرز کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کر کے قانونی کارروائی کی جائے گی۔

آئی جی پنجاب عبدالکریم نے مزید بتایا کہ 9 اور 10 محرم الحرام کو صوبے بھر میں ڈبل سواری پر پابندی نافذ ہوگی، تاہم بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ تمام اضلاع میں محرم کنٹرول رومز فعال کر دیے گئے ہیں جو سنٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے 24 گھنٹے رابطے میں رہیں گے جبکہ سی سی پی او لاہور، آر پی اوز، سی پی اوز اور ڈی پی اوز خود سکیورٹی انتظامات کی نگرانی کریں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے