امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لے آئیں

اسلام آباد( پنجاب پوسٹ) وزیر اعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل اور پیچیدہ مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور دونوں ممالک نے تمام محاذوں پر، بشمول لبنان، فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔

شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ اس پیش رفت کے لیے قطر، سعودی عرب اور ترکی نے بھی اہم کردار ادا کیا تاہم پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی مرکزی کوششوں میں شامل رہا اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدہ طے پانے کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب طے پا گیا ہے ‘سب کو مبارک ہو’

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا ‘میں اس معاہدے کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی فیس کے مکمل طور پر کھولنے کی منظوری دیتا ہوں اور اسی وقت امریکی بحری ناکہ بندی کو فوری طور پر ختم کرنے کی بھی اجازت دیتا ہوں۔ دنیا بھر کے جہازو! اپنے انجن چالو کرو۔ تیل کی روانی دوبارہ شروع ہونے دو!’

دوسری جانب ایران نے بھی معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دیا گیا ہے اور ‘اسلام آباد میمورنڈم’ پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے نفاذ سے قبل ثالثی کرنے والے ممالک کی نگرانی میں اس ہفتے مزید ملاقاتیں ہوں گی، جن میں تکنیکی امور اور عمل درآمد کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بعض دیگر متنازع معاملات پر آئندہ تکنیکی مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے کی تفصیلات پر مزید بات چیت آئندہ ہفتوں میں متوقع ہے۔

پاکستان کا کردار کتنا اہم تھا؟

اس معاہدے میں پاکستان محض ایک حمایتی ملک نہیں بلکہ اس پورے عمل میں اہم ترین ثالث رہا ہے۔ پاکستان کئی ماہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں کا ذریعہ بنا ہوا تھا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف بارہا اس عمل کی نگرانی اور پیش رفت سے متعلق اعلانات کرتے رہے جبکہ اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران کا دورہ کر چکے ہیں اور پورے عمل میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔

سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اگر معاہدہ طے شدہ شیڈول کے مطابق باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو یہ 1979 کے بعد امریکہ اور ایران کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفتوں میں شمار ہو سکتی ہے، اور اس میں پاکستان کا نام ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آئے گا۔

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور بحری تجارت پر بھی اثر انداز ہوتی رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بحالی اور جنگی ماحول کے خاتمے سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے