(پنجاب پوسٹ):آج دنیا بھر میں ورلڈ بلڈ ڈونر ڈے نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد خون کا عطیہ دینے والے افراد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور عوام میں خون کے عطیے کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ ایک انسان کا دیا ہوا خون کسی دوسرے انسان کی زندگی بچا سکتا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق خون کا عطیہ دینا نہ صرف محفوظ عمل ہے بلکہ یہ انسانی صحت پر کسی بھی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں کرتا۔ اس کے برعکس، خون دینے سے جسم میں نیا اور صحت مند خون بننے کا عمل تیز ہوتا ہے جو جسم کو زیادہ فعال اور چست رکھتا ہے۔
ماہرینِ صحت یہ بھی بتاتے ہیں کہ باقاعدگی سے خون کا عطیہ دینا دل کی بیماریوں کے خطرات کو کم کرنے اور بعض اقسام کے کینسر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ ہر صحت مند فرد ہر تین ماہ بعد بآسانی محفوظ طریقے سے خون کا عطیہ دے سکتا ہے۔اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ کیموتھراپی کے مریض، تھیلیسیمیا اور ہیموفیلیا کے شکار بچے، اور حادثات میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے خون کا ہر قطرہ انتہائی قیمتی ہے۔ خاص طور پر زچگی کے دوران ماؤں کی زندگی بچانے کے لیے فوری خون کی فراہمی ناگزیر قرار دی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خون کا عطیہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان کو امید اور نئی زندگی فراہم کرتا ہے۔ خون دینے والے افراد درحقیقت معاشرے کے "گمنام ہیرو” ہیں جو خاموشی سے انسانی جانیں بچا رہے ہیں۔اس دن کا پیغام واضح ہے کہ ہر صحت مند شخص کو آگے بڑھ کر قریبی بلڈ بینک کا رخ کرنا چاہیے اور اس کارِ خیر میں حصہ لے کر "لائف سیور” بننا چاہیے۔اس 14 جون کو عہد کیا جا رہا ہے کہ ہم خون کا عطیہ دے کر نہ صرف زندگیاں بچائیں گے بلکہ انسانیت میں خوشیاں بھی بانٹیں گے۔















