لاہور (پنجاب پوسٹ) چکوال میں حج کی دعوت پر پاکستان آنے والی آسٹریلین فیملی پر سی سی ڈی اہلکار کی جانب سے فائرنگ کے واقعے پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے پہلی بار میڈیا کو مئوقف جاری کردیا ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق10 جون کو مسلح ڈکیتی کی واردات کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آنے والے ایک المناک واقعے میں ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سوگوار خاندان سے دلی تعزیت اور گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ شفافیت، محکمانہ احتساب، اور قانون کی بالادستی پر سختی سے کاربند رہنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کرتا ہے۔
10 جون کی رات، تقریباً پونے بارہ (11:45) بجے، سی سی ڈی کے اہلکاروں نے مسلح ڈکیتی کی ایک جاری واردات کے دوران مداخلت کی۔ مسلح ڈاکوؤں نے ایک فیملی کی گاڑی کو روک کر کار سواروں کو اسلحے کے زور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس دوران ہونے والے آمنے سامنے کے مقابلے میں، مشتبہ افراد کی جانب سے کارروائی کرنے والے پولیس اہلکار پر فائرنگ کے بعد دونوں اطراف سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس افراتفری میں، متعلقہ پولیس افسر نے غلط اندازہ لگایا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپنی بندوق سے فائر کر دیا۔ اس غلط فیصلے کے نتیجے میں 10 سالہ بچی ہانیہ کی المناک موت واقع ہو گئی جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ اس بات پر زور دیتا ہے کہ افسوسناک واقعہ میں ملوث افسر کا یہ طرزِ عمل ہمارے طے شدہ مروجہ طریقہ کار (SOPs) اور طاقت کے استعمال کے قانونی اصولوں سے یکسر انحراف ہے۔ چنانچہ محکمے کی طرف سے فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
متعلقہ افسر کو اسی دن ملازمت سے معطل کر کے حراست میں لے لیا گیا۔ بعد ازاں اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
متاثرہ بچی کے والد کی درخواست پر فوری طور پر ایف آئی آر (FIR) درج کر لی گئی۔ فرانزک شواہد، بشمول افسر کا اسلحہ اور استعمال شدہ گولیوں کے خول محفوظ تحویل میں لےکر کارروائی کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ محکمہ متاثرہ خاندان کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہے تاکہ انہیں جاری تحقیقات کی پیش رفت سے آگاہ رکھا جا سکے۔ متاثرہ خاندان نے جاری قانونی عمل کی رفتار اور شفافیت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
سی سی ڈی ایک سخت ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرتا ہے جو تحمل اور طاقت کے متناسب استعمال کا پابند بناتا ہے۔ ہمارا اولین فرض انسانی جان کا تحفظ ہے، جبکہ "کم سے کم طاقت” کے اصول پر عمل کرنے میں کسی بھی قسم کی ناکامی کے خلاف اعلیٰ ترین سطح پر قانونی اور محکمانہ احتساب کیا جاتا ہے۔
ہمیں اس المیہ پر گہرا دکھ ہے۔
مزید پڑھیں : چکوال: ڈکیتی کی واردات، کار پر ملزمان کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی جاں بحق، باپ بیٹا شدید زخمی
پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ اگرچہ ہمارے اہلکار انتہائی پُرخطر صورتحال میں کام کرتے ہیں لیکن ہمارے طے شدہ پروٹوکولز سے انحراف کا قطعی کوئی جواز نہیں ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
ترجمان کے مطابق سی سی ڈی عوام کے تحفظ کے اپنے فرض پر قائم ہے اور اپنے اہلکاروں کو پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اعلیٰ ترین معیار کا پابند بناتا رہے گا۔
سی سی ڈی متاثرہ خاندان کے ساتھ اپنی غیر متزلزل حمایت اور اس کیس کے تیز رفتار قانونی انجام تک پہنچنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔














