اسلام آباد (پنجاب پوسٹ) عالمی سطح پر توانائی کے بحران اور سپلائی چین کے چیلنجز کے باوجود پاکستان میں ایندھن، بجلی اور ضروری اشیائے خوردونوش کی فراہمی مستحکم رہی۔ حکومتی اقدامات اور مؤثر منصوبہ بندی کے باعث ملک میں سپلائی کا تسلسل برقرار رکھا گیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق ایندھن کے کم از کم چار ہفتوں کے ذخائر برقرار رکھے گئے، جس سے تیل اور توانائی کی فراہمی میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ توانائی اور سپلائی امور میں بہتر ہم آہنگی کے لیے قومی رابطہ و انتظامی کونسل بھی تشکیل دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تیل، اشیائے ضروریہ، زرمبادلہ کے ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ریئل ٹائم ڈیش بورڈز متعارف کرائے گئے، جن کے ذریعے ممکنہ مسائل کی بروقت نشاندہی اور حل کو یقینی بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فواد چوہدری کا حکومت پر وار، آبی جارحیت پر عالمی فورمز سے رجوع کا مطالبہ
حکومت نے تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں اور مہنگائی کے خدشات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کا نظام اپنایا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کو روکنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملی۔
حکام کے مطابق توانائی اور سپلائی انتظامات میں بہتری کے باعث نہ صرف عام شہریوں بلکہ صنعتی شعبے کو بھی فائدہ پہنچا، جبکہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہا۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مؤثر انتظامی اقدامات نے پاکستان کو عالمی توانائی بحران کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔














