کیا واقعی اب ٹیلی کام کمپنیاں بغیر اجازت کسی بھی گھر پر اپنا ٹاور لگا سکتی ہیں؟ میڈیا پر وائرل دعوے کی حقیقت کیا ہے؟


دعویٰ: ٹیلی کام کمپنیاں بغیر اجازت کسی بھی فرد کے گھر پر اپنا ٹاور نصب کر سکتی ہیں۔ قومی اسمبلی سے بل منظور
خبر : میڈیا کے بعض حلقوں پر خبر شائع کی گئی۔جس کے مطابق قومی اسمبلی نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن تنظیم نو ترمیمی بل منظور کرلیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ترمیمی بل کے مطابق نجی جائیداد کے مالکان اور سرکاری ادارے ٹیلی کمیونیکیشن انفرا اسٹرکچر کے لیے جگہ دینے کے پابند ہوں گے۔ موبائل فون یا ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کو آپٹیکل فائبر بچھانے یا ٹاور لگانے کے لیے جگہ نہ دینے والے نجی گھر کے مالک، کرائے دار یا عوامی و نجی ادارے پر 5 کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔

حقیقت : بل کے مندرجات کا جائزہ لیا جائے تو کسی کی زمیں پر کوئی ٹاور اس کی اجازت کے بغیر نہیں لگے گا، یہ بات جھوٹ ہے۔ ٹاور کنٹریکٹ کا اس ساری ترمیم سے تعلق نہیں ہے، اس پر جو طریقہ کار ہے، وہی رہے گا۔یہ ترمیم صرف ٹاورز کی تنصیب کے لیے درکار راستے سے متعلق ہے۔

1002087956

یہ کلاز پہلے بھی ایکٹ میں موجود ہے، ترمیمی ایکٹ میں صرف اس کا دورانیہ بدلا گیا ہے۔پرائیویٹ لینڈ سے فائبر آپٹک یا دوسرا سامان گزارنے کے کیے درکار راستہ کے لیے مالک کو درخواست کی جائے گی، پندرہ دن بعد یاد دہانی کرائی جائے گی، اور تیس دن تک اگر جواب نہیں آتا تو حکومتی ادارے سے رابطہ کیا جائے گا۔ کہیں پر بھی نہیں لکھا ہوا کہ پرائیویٹ اسنٹالیشن کمپنی جواب نا آنے کی صورت میں خود با خود کاروائی کر لے گی۔ کلاز ۳ الف پبلک لینڈ اے متعلق ہے جیسے واپڈا یا ریلوے کی لینڈ، وہاں جواب نا آنے کو رضامندی تصور کیا جائے گا، پرائیویٹ لینڈ پر جواب کا انتظار کیا جائے گا

یعنی اس ترمیم کا ٹاور لگانے کے معاہدوں (Tower Contracts) سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹاورز کی تنصیب کے لیے جو موجودہ طریقہ کار ہے وہ بدستور برقرار رہے گا۔

یہ ترمیم صرف ٹاورز کی تنصیب سے متعلق درکار راستوں سے متعلق ہے اور یہ شق پہلے سے قانون کا حصہ تھی۔ اب ترمیم میں صرف اس کی مدت اور ٹائم لائن تبدیل کی گئی ہے۔

اگر کسی شخص کی ذاتی زمین سے فائبر آپٹک یا دیگر ٹیلی کمیونیکیشن سامان گزارنے کی ضرورت ہو تو پہلے مالک سے باقاعدہ درخواست کی جائے گی۔ پندرہ دن بعد یاد دہانی بھیجی جائے گی اگر 30 دن تک جواب موصول نہ ہو تو معاملہ متعلقہ حکومتی ادارے کے پاس لے جایا جائے گا۔

قانون میں ایسا کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ ذاتی زمین کے معاملے میں جواب نہ ملنے پر کمپنی خود بخود کام شروع کر سکتی ہے یا اپنی مرضی سے کارروائی کر سکتی ہے۔

جس شق 3 (الف) کو لیکر شور مچایا جا رہا ہے وہ صرف سرکاری زمینوں سے متعلق ہے جیسا کہ ریلوے، واپڈا یا دیگر پبلک اتھارٹیز۔ جن کا نجی ملکیت سے کوئی تعلق نہیں۔

ان سرکاری زمینوں پر مقررہ مدت تک جواب نہ آنے کو رضامندی تصور کیا جا سکتا ہے لیکن اس میں بھی متعلقہ سرکاری اتھارٹی شامل ہو گی جبکہ نجی زمین کے معاملے میں ایسا نہیں کہیں نہیں ہے اور قانونی طریقہ کار کے مطابق جواب یا حکومتی فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔
نتیجہ: یہ دعویٰ جھوٹ ہے

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے