لاہور: (پنجاب پوسٹ )پنجاب نے محرم الحرام کے دوران امن و امان، مذہبی ہم آہنگی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یکم محرم سے 10 محرم الحرام تک مختلف پابندیوں کا اطلاق ہوگا۔سیکرٹری داخلہ پنجاب کی جانب سے ضابطہ فوجداری 1898 کے سیکشن 144(6) کے تحت جاری احکامات کے مطابق محرم الحرام کے جلوسوں اور مجالس میں کسی بھی قسم کی نئی اختراع یا غیر روایتی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں:محرم الحرام کے پرامن انعقاد کے لیے ضلعی انتظامیہ لاہور کا جامع سیکیورٹی و انتظامی پلان فائنل
نوٹیفکیشن کے تحت مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر عوامی مقامات پر ہر قسم کے ہتھیار، آتش گیر مواد اور خطرناک اشیاء کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح عوامی جذبات، عقائد اور مختلف مکاتب فکر کے خلاف اشتعال انگیز نعروں، اشاروں اور تقاریر پر بھی پابندی ہوگی۔حکومت نے فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت پھیلانے والے بیانات، تبصروں اور سوشل میڈیا مواد کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ سوشل میڈیا سمیت کسی بھی پلیٹ فارم پر نفرت انگیز مواد کی تشہیر دفعہ 144 کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
سکیورٹی انتظامات کے تحت جلوسوں کے راستوں پر واقع عمارتوں اور گھروں کی چھتوں پر مورچے بنانے، پتھر، اینٹیں، بوتلیں یا دیگر اشیاء جمع کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔ مزید برآں جلوس کے دوران راستے میں واقع عمارتوں کی چھتوں اور دکانوں کے تھڑوں پر تماشائیوں کی موجودگی کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈبل سواری پر پابندی صرف 9 اور 10 محرم الحرام کو نافذ ہوگی، تاہم بزرگ شہریوں، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔محکمہ داخلہ پنجاب نے تمام ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ نافذ کردہ پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے جبکہ عوامی آگاہی کیلئے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا سمیت تمام ذرائع ابلاغ کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔
حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنا، مذہبی رواداری کو فروغ دینا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔














