ننکانہ صاحب(پنجاب پوسٹ): بابا گرونانک دیو جی کی جنم بھومی ننکانہ صاحب میں منعقد ہونے والے سالانہ جوڑ میلے کی تقریبات کے سلسلے میں 512 بھارتی سکھ یاتری پاکستان پہنچ گئے۔ ننکانہ صاحب آمد پر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ارسلان زاہد اور دیگر ضلعی افسران نے یاتریوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔
ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق سکھ یاتریوں کو واہگہ بارڈر سے ننکانہ صاحب تک سخت سکیورٹی حصار میں پہنچایا گیا۔
مزید پڑھیں:نکانہ صاحب میں سکھ یاتریوں کے جوڑ میلے کی تقریبات کا آغاز، اکھنڈ پاٹ کی رسم آج ادا ہوگی
یاتریوں کی حفاظت اور سہولت کے لیے راستے بھر خصوصی انتظامات کیے گئے جبکہ ننکانہ صاحب میں بھی جامع سکیورٹی پلان نافذ کیا گیا ہے۔ ضلعی پولیس، ایلیٹ فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے سکیورٹی فرائض سرانجام دے رہے ہیں تاکہ زائرین کو محفوظ اور پُرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے اس موقع پر کہا کہ دنیا بھر سے آنے والے سکھ یاتری ننکانہ صاحب میں اپنی مذہبی رسومات اور عبادات ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے یاتریوں کے قیام و طعام، طبی سہولیات، صفائی ستھرائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یاتریوں کی رہنمائی اور معاونت کے لیے مختلف مقامات پر خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔
ڈی پی او ارسلان زاہد نے کہا کہ سکھ یاتریوں کی سکیورٹی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ اس مقصد کے لیے فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں اور تمام اہم مذہبی مقامات، رہائشی مراکز اور راستوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاتریوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ننکانہ صاحب میں جاری جوڑ میلے کی تقریبات 12 جون تک جاری رہیں گی، جن میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے سکھ برادری کے افراد شرکت کر رہے ہیں۔ یہ میلہ بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی حقوق کے احترام کی روشن مثال سمجھا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے یاتریوں کی سہولت اور کامیاب انعقاد کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں














