لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت خصوصی ویڈیو لنک اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں گندم اور آٹے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے گندم کے ذخائر، مارکیٹ کی صورتحال اور عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس میں عوام کے لیے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے مقصد سے پاسکو سے ایک ملین (10 لاکھ) میٹرک ٹن گندم خریدنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس تجویز کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں:سبزی کی آڑ میں منشیات فروشی بے نقاب، 2 ملزمان گرفتار، ڈھائی کلو سے زائد چرس برآمد
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فلور ملوں کو گندم 3300 روپے فی من کے حساب سے فراہم کی جائے گی تاکہ آٹے کی قیمتوں میں کمی لائی جا سکے اور شہریوں کو سستی روٹی اور آٹا میسر آ سکے۔اجلاس میں پنجاب سے دیگر صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی سے متعلق تحفظات پر بھی غور کیا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ پنجاب کے راستے سندھ سے کسی بھی صوبے کو گندم کی ترسیل روکنے کے شواہد حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
مزید بتایا گیا کہ سندھ سے خیبر پختونخوا کو گندم کی فراہمی روکنے کے حوالے سے اب تک کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔ پنجاب میں گندم کے ذخائر کو ڈکلیئر کرنے کا عمل جاری ہے اور مکمل ڈیٹا مرتب کیا جا رہا ہے۔بریفنگ کے مطابق رواں سال پنجاب میں گندم کی فصل کا دانہ نسبتاً چھوٹا ہے، جس کے باعث صوبے کی غذائی ضروریات کا درست اندازہ لگانے اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ذخائر کا مکمل ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پنجاب اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے بعد خیبر پختونخوا سمیت دیگر صوبوں کو گندم کی فراہمی کی ذمہ داری بھی پوری کرے گا۔








