لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ جہیز کے سامان سے متعلق تنازعے کا فیصلہ فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور ایسے معاملات کو بیک وقت دو مختلف فورمز پر نہیں چلایا جا سکتا۔
جسٹس طارق محمود باجوہ نے ڈاکٹر عمیر ریاض کی عبوری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق فریقین میاں بیوی ہیں اور ان کے درمیان دسمبر 2024 سے فیملی کورٹ میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کی اہلیہ کے والدین نے شادی کے بعد تقریباً 8 لاکھ روپے مالیت کی گاڑی خرید کر دی تھی، جو فیملی کورٹ میں جمع کرائی گئی جہیز کی فہرست میں بھی شامل ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ جہیز میں دی گئی گاڑی کو خود بخود امانت قرار نہیں دیا جا سکتا اور امانت میں خیانت کی دفعہ لگانے کے لیے قانونی تقاضوں کا پورا ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اقبال کے دیس میں اقبال کے شاہین کا امریکی دوشیزہ سے نکاح ، حق مہر کتنا مقرر ہوا؟
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ شکایت کنندہ نے ایف آئی آر درج کراتے وقت فیملی کورٹ میں جاری مقدمے کے حقائق مکمل طور پر ظاہر نہیں کیے۔ درخواست گزار کے خلاف گاڑی فروخت کرنے اور جعلی رسید بنانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم دورانِ تفتیش پولیس گاڑی کی فروخت سے متعلق رسید حاصل کر چکی ہے۔
فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے تفتیش میں تعاون کیا، ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا اور کیس کے موجودہ حالات میں اس کی مزید گرفتاری ضروری نہیں۔ عدالت نے کہا کہ قانون کے مطابق سامانِ جہیز سے متعلق معاملات کا فیصلہ فیملی کورٹ ہی کرے گی۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ شادی کے موقع پر یا بعد ازاں دلہن کو اس کے والدین کی جانب سے دیا جانے والا سامان جہیز کہلاتا ہے، تاہم وراثت میں ملنے والی جائیداد یا زمین کو جہیز کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے ان تمام نکات کی بنیاد پر ڈاکٹر عمیر ریاض کی عبوری ضمانت کنفرم کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔











