عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان کے کاروباری شعبے نے اعتماد کا مثبت رجحان برقرار رکھا ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (OICCI) کے تازہ ترین بزنس کانفیڈنس سروے کے مطابق ملک میں مجموعی کاروباری اعتماد 13 فیصد مثبت ریکارڈ کیا گیا، جو اگرچہ گزشتہ سروے کے 22 فیصد کے مقابلے میں کم ہے، تاہم اب بھی مثبت زون میں موجود ہے۔
سروے کے نتائج کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کار کمپنیوں کا اعتماد 27 فیصد سے بڑھ کر 28 فیصد تک پہنچ گیا، جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے ماحول کے حوالے سے بین الاقوامی کاروباری برادری کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ کراچی اور لاہور کے علاوہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں بھی کاروباری سرگرمیوں اور اعتماد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی، جہاں اعتماد کی سطح 22 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
مزید پڑھیں:پاکستانی صنعت میں بہتری کے آثار، برآمدی آرڈرز 15 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے
رپورٹ کے مطابق نئے آرڈرز کے حوالے سے اعتماد 30 فیصد مثبت رہا جبکہ روزگار کے مواقع کے اشاریے میں 17 فیصد بہتری سامنے آئی۔ ریٹیل سیکٹر نے بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 فیصد مثبت سطح حاصل کی۔ سروے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بڑی پاکستانی کمپنیاں پیداواری صلاحیت بڑھانے، اخراجات کم کرنے اور مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے جنریٹو مصنوعی ذہانت (AI) اور جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال بڑھا رہی ہیں۔ مزید برآں، 47 فیصد کاروباری اداروں نے آئندہ چھ ماہ کے دوران کاروباری حالات میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی، جو مستقبل کے حوالے سے محتاط لیکن مثبت اعتماد کی نشاندہی کرتا ہے۔










