پاکستانی صنعت میں بہتری کے آثار، برآمدی آرڈرز 15 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

لاہور(پنجاب پوسٹ) عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال اور بڑھتی پیداواری لاگت کے باوجود پاکستان کے صنعتی شعبے میں بہتری کے آثار سامنے آنے لگے ہیں، جبکہ برآمدی آرڈرز میں فروری 2025 کے بعد سب سے تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ایچ بی ایل اور ایس اینڈ پی گلوبل کے مشترکہ مینوفیکچرنگ پرچیزنگ مینیجرز انڈیکس (PMI) کے مطابق مئی 2026 میں پاکستان کی صنعتی سرگرمیاں توسیع کے زون میں داخل ہو گئی ہیں۔ اپریل میں یہ اشاریہ 49.9 پر تھا، جو جمود کی نشاندہی کرتا تھا، تاہم مئی میں یہ 50 کی حد سے اوپر چلا گیا۔

سروے کے مطابق پاکستانی مصنوعات کے لیے بیرونِ ملک طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور برآمدی آرڈرز فروری 2025 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں، جس سے ملکی صنعت کو نئی رفتار ملنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے آرڈرز میں اضافے سے صنعتی سرگرمیوں کو سہارا ملا، تاہم خام مال کی بڑھتی قیمتیں، سپلائی چین کے مسائل اور پیداواری لاگت میں اضافہ بدستور صنعتکاروں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

سروے کے مطابق کئی کاروباری ادارے مستقبل کے حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور نئی سرمایہ کاری یا مشینری کی خریداری کے فیصلوں میں احتیاط برت رہے ہیں۔ کاروباری اعتماد میں بھی مسلسل چھ ماہ سے کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ صنعتی شعبے پر اثر انداز ہو رہے ہیں، تاہم برآمدات میں اضافہ اور صنعتی سرگرمیوں کی بحالی معیشت کے لیے حوصلہ افزا اشارے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ صنعت میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں، لیکن روزگار، سرمایہ کاری اور پیداواری لاگت سے متعلق مسائل اب بھی موجود ہیں، جس کے باعث صنعتی بحالی کو مکمل اور پائیدار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے