کوٹلی ستیاں جنگل میں آتشزدگی: سیٹلائٹ ڈیٹا میں ہولناک انکشافات، نئے پاکستانی سیٹلائٹ نے کیا کمال دکھایا؟

کوٹلی ستیاں ( پنجاب پوسٹ)پاکستان کے خلائی ادارے سپارکو کی جانب سے جاری کردہ سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگل میں آتشزدگی سے ہونے والی تباہی کی ایسی تصویر سامنے رکھی ہے جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

سپارکو نے اپنے پورٹل سپیس فار کلائمیٹ پر جاری کردہ ڈیٹا میں بتایا ہے کہ 9 مئی سے 29 مئی 2026 کے درمیان لی گئی سیٹلائٹ تصاویر کے موازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے انتہائی حساس علاقے کوٹلی ستیاں میں 25 مقامات پر پھیلی آگ نے 3037 ہیکٹر یعنی 7504 ایکڑ سے زائد قدرتی جنگل کو تباہ کر دیا ہے۔

محکمہ جنگلات ہر سال 15 اپریل سے 15 جولائی تک کے عرصے کو ‘آگ کا موسم’ قرار دیتا ہے جس دوران راولپنڈی ڈویژن کے پہاڑی علاقوں مری، کوٹلی ستیاں، کہوٹہ اور مارگلہ ہلز کے جنگلوں میں آتشزدگی کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم اس بار معاملہ معمول سے کہیں زیادہ سنگین ثابت ہوا۔

شدید گرمی کی لہر اور تیز ہواؤں نے مل کر آگ کو اس رفتار سے پھیلایا کہ محکمہ جنگلات اور مقامی آبادی کی مشترکہ کوششیں بھی شروع میں بے بس نظر آئیں۔

سپارکو کے ڈیٹا کے مطابق اس آتشزدگی میں سب سے زیادہ نقصان چیر پائن کے جنگلات کو پہنچا۔ یہ وہی جنگلات ہیں جن پر دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کا دارومدار ہے۔

مری، کوٹلی ستیاں اور کہوٹہ پر مشتمل نیشنل پارک ہمالیائی ذیلی صنوبر جنگلات کے ماحولیاتی خطے میں واقع ہے۔ یہ درخت نہ صرف پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ مٹی کے کٹاؤ کے خلاف قدرتی دیوار کا کام بھی کرتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس آفت کے ماحولیاتی اثرات جلے ہوئے رقبے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ حالیہ آتشزدگی نے پرندوں اور جنگلی حیات کے افزائش نسل کے عروج کے موسم کو بری طرح متاثر کیا۔ نئے پودوں اور کونپلوں کو تباہ کیا اور آگ برداشت کرنے والی غیر مقامی گھاس اور جھاڑیوں کے لیے راستہ کھول دیا جو اب اس بنجر زمین پر قبضہ کر سکتی ہیں۔

یہ علاقہ 2020 میں حکومت پاکستان کے پروٹیکٹیڈ ایریاز انیشیٹو کے تحت نیشنل پارک قرار دیا گیا تھا اور اس کا کل رقبہ 117004 ایکڑ یعنی 47350 ہیکٹر ہے۔ اتنے اہم محفوظ علاقے میں اس پیمانے پر تباہی کو ماہرین ایک بڑا ماحولیاتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

محکمہ جنگلات کے ترجمان نے بتایا ہے کہ فیلڈ ٹیمیں گرمی کی لہر کے دوران ہائی الرٹ پر رہیں اور ہر اطلاع پر فوری ردعمل دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں نے متعدد مقامات پر آگ پر قابو پا لیا ہے تاہم آگ ابھی بھی قریبی ڈھلوانوں پر پھیل رہی ہے اور مزید ماحولیاتی نقصان کا خطرہ برقرار ہے۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اہلکاروں نے جنگلی حیات کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے انتہائی احتیاط کے ساتھ آپریشن کیے اور جنگلی حیات کے مسکنوں کا تحفظ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

واضح رہے کہ سپارکو نے اپریل 2026 میں اپنا جدید ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ پی آر ایس سی ای او تھری چین کے تائیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے مارچ 6 راکٹ کے ذریعے کامیابی سے خلا میں بھیجا تھا۔ اس سیٹلائٹ کی بدولت پاکستان کو حساس علاقوں کی ریئل ٹائم نگرانی کی صلاحیت حاصل ہوئی ہے اور کوٹلی ستیاں کا ڈیٹا اس نئی صلاحیت کا پہلا بڑا عوامی استعمال ہے۔

محکمہ جنگلات نے آگ کے موسم کے دوران جنگلات میں ماچس، سگریٹ، لائٹر، آرے اور کلہاڑیاں لے جانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اسی طرح جنگلات میں پکنک، باربی کیو یا چائے کے لیے آگ جلانا اور گیس سلنڈر و اسٹوو استعمال کرنا بھی ممنوع ہے۔

ماہرین اس آتشزدگی کو موسمیاتی تبدیلی کے وسیع تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ شمالی پاکستان میں گرمی کی لہر پہلے سے زیادہ شدید اور طویل ہوتی جا رہی ہے۔ خشک موسم، تیز ہوائیں اور بلند درجہ حرارت مل کر ایسے حالات پیدا کرتے ہیں جن میں معمولی چنگاری بھی بڑی آفت بن سکتی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ علاقوں میں پودے لگانے کی مہم شروع کرنے کے حوالے سے مشاورت جاری ہے تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ چیر پائن کے جنگلات کو مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جو کچھ چند دنوں میں جل گیا، اسے واپس لانا ایک نسل کا کام ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے