"میرا پیارا” نے 22سال سے گمشدہ ذہنی معذور لڑکی کیسے تلاش کی؟

لاہور ( پنجاب پوسٹ)میں پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے "میرا پیارا” پراجیکٹ نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 22 سال سے گمشدہ خاتون کو اس کے اہلِ خانہ سے ملا دیا۔ شگفتہ نامی خاتون 2004 میں صرف 12 سال کی عمر میں ذہنی کمزوری کے باعث راستہ بھٹک گئی تھی اور اپنے خاندان سے بچھڑ گئی تھی۔ گمشدگی کے بعد وہ کراچی کے ایک فلاحی ادارے میں مقیم رہی۔
سیف سٹی کی "میرا پیارا” ٹیم نے شگفتہ کا انٹرویو اور اس کی پرانی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس کے نتیجے میں اس کی بہن نے ویڈیو دیکھ کر اسے پہچان لیا۔ بعد ازاں پولیس ویریفکیشن اور ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے رشتے کی تصدیق کی گئی۔

تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل ہونے کے بعد شگفتہ کو اس کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔ 22 سال بعد اپنی بچھڑی بیٹی سے ملنے پر ماں جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور آبدیدہ ہو گئی۔ یہ منظر وہاں موجود افراد کے لیے بھی انتہائی جذباتی تھا۔
ترجمان سیف سٹی کے مطابق "میرا پیارا” ٹیم اب تک 77 ہزار سے زائد گمشدہ افراد کو ان کے خاندانوں سے ملوا چکی ہے۔ اس منصوبے کو عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے اور اسے WSIS Prizes 2026 کے لیے منتخب منصوبوں میں شامل کیا گیا ہے۔ سیف سٹی کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کی مدد سے گمشدہ افراد کی تلاش اور ان کی بحفاظت گھر واپسی کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے