کوئٹہ دھماکہ: بلوچوں کے نام پر بلوچ عوام ہی نشانے پر ، حل کیا ہے ؟

کوئٹہ میں ہونے والے حالیہ خو۔د۔کش حملے کے بعد ایک بار پھر یہ تلخ حقیقت کو سامنے آئی ہے کہ د۔ہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ وہی عام لوگ بنتے ہیں جن کے نام پر بندوق اٹھانے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئٹہ میں ہونے والا دھماکہ ریلوے ٹریک کے قریب ضرور ہوا لیکن اصل تباہی جونئیر اسسٹنٹ کالونی، قریبی رہائشی فلیٹس، دکانوں، پارکنگ ایریا اور شہری گاڑیوں میں دیکھی گئی۔ معصوم بچے، خواتین اور بزرگ اس خونریز کارروائی کا شکار بنے جبکہ ریلوے ٹریک اور ٹرین کو محدود نقصان پہنچا۔

یہ واقعہ اس بیانیے کو بھی سوالیہ نشان بناتا ہے جس کے تحت بلو۔چ لبر۔یشن آر۔می جیسے گروہ خود کو بلوچ عوام کا نمائندہ یا محافظ ظاہر کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب دھماکوں سے بلوچ خاندانوں کے گھر اجڑیں، بلوچ بچوں کا خون بہے، بلوچ مزدور خوف میں زندگی گزاریں اور بلوچ شہروں کی معیشت مفلوج ہو تو اسے بلوچوں کی خدمت نہیں کہا جا سکتا۔ جو تنظیمیں اپنے ہی علاقوں میں خوف، لاشیں اور بربادی چھوڑ جائیں، وہ دراصل بلوچ عوام کو ہی سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔

بلوچستان پہلے ہی دہائیوں سے محرومی، پسماندگی اور بدامنی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ ایسے میں دہشت گرد حملے نہ صرف انسانی جانیں لیتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، تعلیم، روزگار اور روزمرہ زندگی کو بھی تباہ کرتے ہیں۔ جب کسی دھماکے کے بعد بازار بند ہوں، سڑکیں سنسان ہو جائیں، والدین اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے ڈریں اور مزدور روزگار کھو بیٹھیں تو اس کا نقصان کسی ریاستی ادارے سے زیادہ عام بلوچ شہری کو پہنچتا ہے۔

اس قسم کی کارروائیاں دراصل بلوچستان کے عوام کو مزید تنہائی، خوف اور عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہیں۔ اگر کوئی گروہ واقعی بلوچ عوام کے حقوق، ترقی یا وقار کی بات کرتا ہے تو اس کا راستہ ہتھیار، خو۔د۔کش حملے اور شہری آبادیوں کو نشانہ بنانا نہیں ہو سکتا۔ سیاسی مسائل کا حل سیاسی اور جمہوری طریقوں سے ہی نکلتا ہے نہ کہ خونریزی سے۔

ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ بلوچستان کے عوام کے تحفظ، ترقی اور اعتماد کی بحالی کو ترجیح دی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ انصاف، ترقی، تعلیم اور سیاسی شمولیت کے ذریعے ہی پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے