لاہور( پنجاب پوسٹ) الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے مرکزی دفتر میں نائب صدر ذکر اللہ مجاہد کے ہمراہ میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے عید الاضحیٰ 2026 کے لیے ’قربانی فی سبیل اللہ‘ پراجیکٹ کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے میڈیا کو بتایا کہ اس سال بھی پاکستان کے مستحقین کے علاوہ غزہ متاثرین کیلئے عید قربان پر مصر، لبنان، یروشلم،غزہ اور پاکستان میں قربانی کریں گے۔ قربانی پراجیکٹ پر 2ارب32کروڑ50لاکھ روپے خرچ کریں گے،13ہزار جانوروں کی قربانی کی جائے گی۔ ایک ارب 3کروڑ50لاکھ روپے مالیت سے اہل غزہ کیلئے قربانی کررہے ہیں۔
انھوں نےکہاکہ الخدمت فاؤنڈیشن اس سال ایک کثیر الملکی نیٹ ورک کے ذریعے غزہ، مصر، لبنان، یروشلم اور پاکستان میں اہلِ غزہ کے لیے قربانی کا اہتمام کر رہی ہے۔ اس سال اہلِ غزہ کے لیے 70 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، جس کے تحت ایک منفرد منصوبے کے طور پر مصر میں 100 گائے کی قربانی کے فوری بعد تازہ گوشت "چلرز” کے ذریعے ایک ہفتے کے اندر غزہ کے جنگ زدہ علاقوں میں پہنچایا جائے گا۔ اس کے علاوہ مصر میں مزید 500 گائے اور پاکستان میں 300 گائے ذبح کر کے ان کا گوشت "ریڈی ٹو ایٹ” ٹن پیکس میں محفوظ کر کے خصوصی امدادی فلائٹس کے ذریعے غزہ روانہ کیا جائے گا۔
صدر الخدمت نے مزید بتایا کہ وہ خود اس عید پر مصر میں فلسطینی متاثرین کے ساتھ موجود ہوں گے جہاں ان کے لیے عید ملن پارٹی کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
پاکستان میں زیرِ تعلیم فلسطینی طلبہ کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا ہے، جن کے لیے قربانی کے ساتھ ساتھ غیرملکی سفیروں اور مخیر حضرات کی موجودگی میں عید ملن تقریب منعقد ہو گی۔
گزشتہ سال کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 میں بھی 70 کروڑ روپے کی لاگت سے 1600 سے زائد گائے ذبح کی گئی تھیں، جن کا گوشت سارا سال غزہ کے متاثرین کو فراہم کیا گیا۔پاکستان میں قربانی کے انتظامات پر روشنی ڈالتے ہوئے ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ امسال مجموعی طور پر 13 ہزار جانور قربان کیے جائیں گے، جن میں 7 ہزار 5 سو بڑے اور 5 ہزار 5 سو چھوٹے جانور شامل ہوں گے،مجموعی طور پر 5 لاکھ سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔
قربانی کا گوشت ملک بھر میں موجود یتیم بچوں، بیواؤں اور مستحقین تک پہنچانے کے لیے کراچی اور لاہور سمیت بڑے شہروں میں جدید سلاٹر ہاؤسز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جہاں ہائی جینک ماحول میں ذبیحہ اور پیکنگ کی جائے گی۔ گوشت کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے دور دراز علاقوں تک "کولڈ چین سپلائی” اور چلر ٹرکوں کا استعمال یقینی بنایا جائے گا۔
نائب صدر ذکر اللہ مجاہد نے بتایا کہ قربانی کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے خصوصی سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے جو بکنگ سے لے کر ڈونر رپورٹنگ تک تمام ریکارڈ مرتب کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں الخدمت کے رضاکار اور نگران کمیٹیاں اس پورے عمل کی مانیٹرنگ کریں گی۔ اس موقع پر چرمِ قربانی کی مہم کا بھی اعلان کیا گیا جو الخدمت کے مقامی فلاحی منصوبوں کی مالی معاونت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔آخر میں الخدمت کے ذمہ داران نے اوورسیز پاکستانیوں اور ملک کے مخیر حضرات کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے الخدمت ہر سال لاکھوں مستحقین کے چہروں پر خوشیاں بکھیرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔












