لاہور پولیس کے اہلکاروں اور افسران کیخلاف مقدما ت کیوں درج ہورہے ہیں؟

لاہور( پنجاب پوسٹ ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں قانون کے رکھوالے بھی قانون کے شکنجے میں آنے لگے۔گذشتہ چار ماہ کے دوران شہر کے مختلف تھانوں میں پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف 23 مقدمات درج ہوئے ۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق درج شدہ مقدمات میں کانسٹیبل سے لے کر سب انسپکٹر تک کے 43 اہلکار نامزد کئے گئے، درج شدہ مقدمات میں 5 سب انسپکٹر، 12 اے ایس آئی نامزد کئے گئے، مختلف تھانوں میں درج مقدمات میں 26 ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل بھی نامزد ہوئے۔

حکومتی پالیسیاں ، 70 فیصد ڈاکٹرز پاکستان چھوڑ جاتے ہیں ، اسلامی جمعیت طلبا: لاہور پولیس کے اہلکاروں اور افسران کیخلاف مقدما ت کیوں درج ہورہے ہیں؟

پولیس ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ مقدمات کا اندراج مالی کرپشن، ناقص تفتیش اور اختیارات سے تجاوز کرنے پر ہوا۔

سائلین کو ہراساں کرنے اور مختلف جرائم میں ملوث ہونے کے باعث بھی مقدمات درج ہوئے۔ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں 5، سٹی اور صدر ڈویژن میں پولیس کے خلاف 4، 4 مقدمات درج ہوئے، جبکہ سول لائنز ڈویژن میں 4، کینٹ ڈویژن میں پولیس کے خلاف 3 مقدمات کا اندراج کیا گیا ۔ اس کے علاوہ اقبال ٹاؤن ڈویژن میں رواں سال پولیس کے خلاف 3 مقدمات درج کئے گئے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے