پاکستان کے خلاف عالمی سازش: تنہا لڑنے والا پاکستان کیسے مقابلہ کر رہا ہے؟

یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ خطے کی سیاست، عالمی مفادات، دہشت گردی، میڈیا بیانیے اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عوامل ہیں جنہیں ملا کر دیکھا جائے تو صورتحال زیادہ واضح ہوتی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی سفارتی منظرنامے میں متحرک دکھائی دیا۔ علاقائی معاملات میں پاکستان کی اہمیت پر بات ہوئی، مختلف عالمی طاقتوں نے اسلام آباد کے ساتھ رابطے بڑھائے اور سکیورٹی تعاون پر بھی گفتگو سامنے آئی۔

ایسے وقت میں پاکستان کے روایتی مخالف حلقوں میں بے چینی پیدا ہونا غیر معمولی بات نہیں۔اسی پس منظر میں پاکستان کے خلاف ایک منظم بیانیاتی دباؤ بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔ کبھی عالمی میڈیا میں پاکستان کو غیر مستحکم ریاست کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، کبھی سوشل میڈیا پر خوف، مایوسی اور اداروں پر عدم اعتماد بڑھانے والی مہمات چلتی ہیں اور کبھی دہشت گردی کے واقعات کے ذریعے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک دوبارہ عدم استحکام کی طرف جا رہا ہے۔

خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں حالیہ حملے، بنوں اور سرائے نورنگ جیسے واقعات، اٹک میں خودکش حملے کی کوشش اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بھی اسی بڑے تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق دہشت گرد گروہ اب روایتی جنگ کے بجائے نرم اہداف، عوامی مقامات اور نفسیاتی دباؤ کی حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو متاثر کیا جا سکے۔

سوشل میڈیا اس پورے معاملے میں ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔ مختلف بھارتی، افغان اور دیگر پاکستان مخالف اکاؤنٹس کی سرگرمیاں، مخصوص ہیش ٹیگز، ریاست مخالف بیانیے اور ہر واقعے کو فوری طور پر عالمی سطح پر اچھالنے کی کوششیں اسی جنگ کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔ بعض اوقات پاکستان کے اندر موجود سیاسی یا نظریاتی گروہ بھی انہی بیانیوں کو تقویت دیتے نظر آتے ہیں، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

اسرائیلی قیادت یا بعض بین الاقوامی شخصیات کی جانب سے پاکستان پر تنقیدی بیانات کو بھی اسی وسیع تر جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام، مسلم دنیا میں اس کی حیثیت، چین کے ساتھ تعلقات اور خطے میں اس کا جغرافیائی مقام اسے ہمیشہ عالمی طاقتوں کی دلچسپی اور دباؤ کے مرکز میں رکھتا ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود ایک حقیقت نمایاں ہے کہ پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی، سفارتی دباؤ اور اندرونی عدم استحکام کے ادوار سے گزر چکا ہے۔ ملک نے بھاری جانی و معاشی قربانیاں دے کر حالات پر قابو پایا تھا۔ آج بھی سکیورٹی فورسز، ادارے اور عام شہری مختلف سطحوں پر اسی چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔

اٹک میں لیاقت علی جیسے شہری کی قربانی اسی اجتماعی مزاحمت کی ایک مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جہاں ایک عام شہری نے اپنی جان دے کر ممکنہ بڑے سانحے کو روکنے کی کوشش کی۔ ایسے واقعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی صرف ریاست کے خلاف نہیں بلکہ پورے معاشرے کے خلاف جنگ ہے، اور اس کا مقابلہ بھی اجتماعی سطح پر ہی کیا جاتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے