لاہور(پنجاب پوسٹ) لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ٹریفک حادثات کی روک تھام کے حوالے سے 14 مئی 2026 کو سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی زیر صدارت ٹریفک اور ریسکیو افسران کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 ڈاکٹر رضوان اور ڈویژنل افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں ٹریفک حادثات، ان کی وجوہات اور ممکنہ حل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ ایکسڈنٹ ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ ریسکیو افسران کے مطابق اوور اسپیڈنگ، ون وے کی خلاف ورزی اور لین لائن کی خلاف ورزی حادثات کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ ڈویژنل افسران نے روڈ انجینئرنگ کے مسائل، غیر ضروری روڈ کٹس اور سروس روڈز کی عدم موجودگی کو بھی حادثات کا سبب قرار دیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے کہا کہ رواں سال ٹریفک حادثات میں 113 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور زیادہ تر حادثات میں موٹرسائیکل سوار شامل تھے۔ ان کے مطابق رواں سال مہلک حادثات میں 12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اجلاس میں ریسکیو 1122 افسران نے ہیلمٹ سے متعلق زیرو ٹولرنس پالیسی کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ہیڈ انجری کے کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔
سی ٹی او لاہور نے کہا کہ حادثات کی روک تھام کے لیے “ایکسڈنٹ اینالسز یونٹ” تشکیل دیا گیا ہے جو ہر حادثے کی وجوہات اور ممکنہ حل کا جائزہ لے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 80 فیصد حادثات ڈرائیورز کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث پیش آتے ہیں اور ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے حادثات میں مزید کمی لائی جا سکتی ہے۔















