لاہور (پنجاب پوسٹ) مریم نواز شریف نے پنجاب کے اضلاع کو مالی طور پر خودمختار بنانے کے لیے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے مقامی ریونیو سے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ کی زیر صدارت کمشنرز کے اہم اجلاس میں مختلف ڈویژنز کے ترقیاتی منصوبوں، دستیاب وسائل اور عوامی فلاحی سکیموں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمشنرز ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان نے اپنے اپنے اضلاع کے ترقیاتی پلانز پر بریفنگ دی جبکہ وزیراعلیٰ نے افسران سے سخت سوالات بھی کیے۔ مریم نواز شریف نے واضح کیا کہ "آئی واش نہیں، گراؤنڈ ورک چاہیے”، کمشنرز اب ایئرکنڈیشنڈ کمروں کے بجائے فیلڈ میں نظر آنے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے فیصل آباد میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں کھلے گڑھے میں گر کر تین سالہ بچی کے جاں بحق ہونے کے واقعے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ اگر کوئی شہری مین ہول میں گرا تو متعلقہ سوسائٹی مالکان کو گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے ہر ماہ کھلے مین ہول نہ ہونے کا بیانِ حلفی لینے اور پنجاب بھر میں نوٹس جاری کرنے کی ہدایت بھی کی۔
مریم نواز شریف نے تمام کمشنرز کو خود فیلڈ وزٹس کرنے، تعمیراتی مقامات کو ایس او پیز کے مطابق کارڈن آف کرنے، سرکاری و نجی سکولوں کی عمارتوں کی نگرانی اور تحصیل سطح پر ڈیپ کلیننگ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر پاور انتظامیہ کے پاس ہے تو ذمہ داری بھی انہی کی ہے”۔
ساہیوال ڈویژن
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ساہیوال ڈویژن کے لیے لوکل گورنمنٹ کے 4 ارب روپے دستیاب ہیں جبکہ شہر اور گردونواح میں 1.12 ارب روپے کے ترقیاتی کام ہوں گے۔ 862 ملین روپے کی لاگت سے 18.8 کلومیٹر طویل 10 اہم سڑکیں تعمیر کی جائیں گی جبکہ فارم ٹو مارکیٹ روڈز کا جال بھی بچھایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے ساہیوال میں عالمی معیار کی سڑکیں بنانے، فٹ پاتھ لازمی تعمیر کرنے اور شہر کے داخلی راستوں کو خوبصورت بنانے کی ہدایت دی۔ چیچہ وطنی، اوکاڑہ اور پاکپتن میں بھی بائی پاسز، سڑکوں، سپورٹس ایرینا، ماڈل سٹریٹس اور سولر لائٹس کے منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
سرگودھا ڈویژن
سرگودھا ڈویژن کے لیے 2.8 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ شاہ پور لک موڑ روڈ، بھیرہ بیوٹی فیکیشن، سیال موڑ موٹروے انٹری پوائنٹ اور سرگودھا یونیورسٹی روڈ پر پیڈسٹرین برج تعمیر کیے جائیں گے۔
سیف سٹی کیمروں کی تنصیب، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی تک رسائی بہتر بنانے، فیملی پارکس، بس اسٹینڈز اور جدید اسٹریٹ لائٹس لگانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام اسکیمیں 30 ستمبر تک مکمل کی جائیں۔
فیصل آباد ڈویژن
فیصل آباد ڈویژن کے پاس 5.3 ارب روپے کے مقامی وسائل موجود ہیں، جن سے 81 کلومیٹر طویل 38 سڑکوں سمیت 59 منصوبوں پر کام ہوگا۔ جھنگ روڈ بائی پاس اپ گریڈیشن، ڈجکوٹ تا تاندلیانوالہ روڈ تعمیر نو، جڑانوالہ اور ستیانہ لنک روڈ پر فٹ پاتھ، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور گوجرہ میں اینڈ ٹو اینڈ سڑکوں کی تعمیر شامل ہے۔
چنیوٹ شہر کی بیوٹی فیکیشن، جھنگ روڈ پر اسٹریٹ لائٹس اور سڑکوں کی بہتری کے منصوبے بھی منظور کیے گئے۔
ملتان ڈویژن
ملتان ڈویژن کے چار اضلاع میں 3 ارب روپے سے 28 ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔ ملتان میں گھنٹہ گھر سے چونگی نمبر 9، ڈیرہ اڈہ سے عزیز ہوٹل تک سڑکوں کی اپ گریڈیشن، عسکری بائی پاس کو ڈبل کرنا اور مختلف شاہراہوں کی بہتری شامل ہے۔
وہاڑی، بورے والا، میلسی، لودھراں اور دنیا پور میں بھی سڑکوں، اسٹیڈیمز، پارکس، اسٹریٹ لائٹس اور بس اسٹینڈز کی اپ گریڈیشن کے منصوبے منظور کیے گئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واضح کیا کہ پورے پنجاب میں ترقیاتی کاموں کا معیار یکساں رکھا جائے گا اور کسی قسم کی سفارش یا اقربا پروری برداشت نہیں کی جائے گی بلکہ تمام منصوبے صرف میرٹ پر مکمل کیے جائیں گے۔















