وزیر آباد( نور فاطمہ ) سوشل میڈیا پر گزشتہ روز یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وزیرآباد میں جشن معرکۂ حق کے موقع پر عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر تھی اور صرف ’ستھرا پنجاب‘ کے چند سینیٹری ورکرز نے ایک مختصر ریلی نکالی۔ اس دعوے کے ساتھ چند ویڈیوز بھی بڑے پیمانے پر شیئر کی گئیں اور یہ بیانیہ بنایا گیا کہ عوام نے اس جشن کو مسترد کر دیا۔
اس دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے پنجاب پوسٹ کی ٹیم نے وزیرآباد شہر میں ہونے والی مختلف تقریبات، ریلیوں اور سرکاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی سرگرمیوں کو بھی قریب سے مانیٹر کیا گیا۔
تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز دراصل ’ستھرا پنجاب‘ کے چند ورکرز کی ایک محدود اور انفرادی نوعیت کی سرگرمی کی تھی جو شہر کے ایک مخصوص مقام پر منعقد ہوئی۔ اس سرگرمی کا نہ تو سرکاری سطح پر اہتمام کیا گیا تھا اور نہ ہی اسے مرکزی عوامی تقریب قرار دیا جا سکتا ہے۔
پنجاب پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ریلی میں شریک ایک ورکر نے تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے طور پر افواج پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہ سرگرمی منعقد کی تھی۔ ان کے مطابق ‘ہم چند دوستوں نے اپنی مرضی سے ریلی نکالی تھی لیکن سوشل میڈیا پر اس طرح پیش کیا گیا جیسے پورے شہر میں صرف یہی سرگرمی ہوئی ہو۔’
مزید تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ وزیرآباد میں جشن معرکۂ حق کے سلسلے میں دو درجن سے زائد تقریبات منعقد ہوئیں جن میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور ضلعی انتظامیہ کی مختلف سرگرمیاں شامل تھیں۔
شہر کی مرکزی تقریب گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر واقع مسلم لیگ (ن) کے کیمپ آفس میں منعقد ہوئی، جس میں رکن قومی اسمبلی بلال فاروق تارڑ، اراکین صوبائی اسمبلی عدنان افضل چٹھہ اور وقار چیمہ سمیت کارکنان، شہریوں اور انتظامیہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ کہ وزیرآباد میں صرف پانچ سینیٹری ورکرز نے ریلی نکالی اور عوام نے جشن معرکۂ حق کو مسترد کر دیا، حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے۔ گردش کرنے والی ویڈیوز ایک محدود، انفرادی سرگرمی کی تھیں جبکہ شہر میں متعدد تقریبات اور اجتماعات منعقد کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : جشن معرکہ حق ، سرگودھا میں سیمینار اور ریلی کا اہتمام: فیکٹ چیک: کیا وزیرآباد میں جشنِ معرکۂ حق کے موقع پر صرف پانچ سینیٹری ورکرز نے ریلی نکالی؟
















ایک تبصرہ برائے “فیکٹ چیک: کیا وزیرآباد میں جشنِ معرکۂ حق کے موقع پر صرف پانچ سینیٹری ورکرز نے ریلی نکالی؟”
[…] […]