لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ ملتان بینچ نے ڈیرہ غازی خان میں سرکاری اراضی کی الاٹمنٹ سے متعلق ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب حکومت کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔ عدالت نے 14 دسمبر 2010 کے سابقہ عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 471 کنال 19 مرلے سرکاری اراضی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان کو منتقل کرنے کا حکم واپس لے لیا۔ جسٹس چوہدری محمد اقبال نے پنجاب حکومت کی درخواستوں پر تحریری حکم جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ سابقہ فیصلہ اہم حقائق چھپا کر اور مبینہ فراڈ کے ذریعے حاصل کیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق متنازعہ اراضی صوبائی حکومت کی ملکیت تھی، تاہم سابقہ مقدمات میں پنجاب حکومت کو فریق ہی نہیں بنایا گیا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ یہ سرکاری اراضی ممنوعہ زون میں واقع ہے جہاں ملکیتی حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ بار ایسوسی ایشن کے حق میں اراضی کی الاٹمنٹ کا کوئی حتمی حکم مجاز اتھارٹی نے جاری نہیں کیا تھا، جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان خود بھی سابقہ مقدمات میں فریق نہیں تھی۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت عدالت کو ازخود نوٹس لے کر ایسا ریلیف دینے کا اختیار حاصل نہیں جو درخواست میں مانگا ہی نہ گیا ہو۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 13 نومبر 2025 کو ہائیکورٹ کو ان درخواستوں کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اسی ہدایت کی روشنی میں لاہور ہائیکورٹ نے 2010 میں منظور ہونے والی تینوں آئینی درخواستیں بھی خارج کر دیں۔













