صوفی آباد وقف اراضی اسکینڈل،سابق سیکرٹری اوقاف سمیت 10 افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت انکوائری کا حکم

لاہور(پنجاب پوسٹ) صوفی آباد میں واقع وقف جائیداد کی مبینہ غیر قانونی نیلامی اور اس کے تجارتی استعمال میں تبدیلی کے اسکینڈل میں سابق سیکرٹری اوقاف سمیت محکمہ اوقاف کے 10 افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ (PEEDA Act) کے تحت باقاعدہ انکوائری کا حکم جاری کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی متعلقہ افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب فواد ہاشم ربانی کو اس معاملے کی انکوائری کے لیے انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ وہ تمام الزامات کا جائزہ لے کر حقائق کی روشنی میں اپنی رپورٹ مرتب کریں گے۔

ذرائع کے مطابق معاملہ 15 کنال 15 مرلے وقف اراضی کی مبینہ غیر قانونی نیلامی اور اس کے تجارتی استعمال میں تبدیلی سے متعلق ہے۔ افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے مقررہ پالیسی کے برعکس اضافی 15 مرلے اراضی کی بھی نیلامی کر دی اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

الزامات میں یہ بھی شامل ہے کہ نئی نیلامی کیے بغیر مارکی کو پٹرول پمپ اور فاسٹ فوڈ پوائنٹ میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے وقف املاک کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

انکوائری میں اس بات کی بھی چھان بین کی جائے گی کہ قانونی لیز معاہدے کے بغیر قبضہ کس طرح منتقل کیا گیا، جبکہ کرائے میں سالانہ 10 فیصد اضافے کی شرط کو کس بنیاد پر ختم کیا گیا۔

انکوائری میں سابق سیکرٹری اوقاف کے ساتھ سابق ڈائریکٹر اسٹیٹ وسیم عباس، سابق زونل ایڈمنسٹریٹر ایم اشفاق دیال اور دیگر افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔

تمام نامزد افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر اپنا تحریری دفاع انکوائری آفیسر کے سامنے جمع کرائیں۔

انکوائری آفیسر 60 روز کے اندر جامع رپورٹ اور سفارشات مجاز اتھارٹی کو پیش کریں گے، جس کی روشنی میں مزید قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے