لاہور(پنجاب پوسٹ)پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ عدالت میں چار سال سے صرف حاضریاں ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت نے گزشتہ چند برسوں میں دنیا میں ایک منفرد پوزیشن حاصل کی ہے۔
ان کے مطابق پاکستانی قیادت چین جائے تو وہاں بھی شاندار استقبال ہوتا ہے اور واشنگٹن جائے تو وہاں بھی کھلے دل سے خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان پر اعتماد کرتا ہے، جبکہ ایران بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے پاکستان کو ثالث مقرر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پوزیشن کو برقرار رکھنا ہوگا۔ امریکہ میں حالیہ انتخابات کا اثر پاکستان پر بھی پڑے گا۔فواد چوہدری نے زور دیا کہ ملک کے اندر سیاسی ماحول کو بہتر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار سال سے سیاسی تلخی کا خمیازہ صرف عوام بھگت رہے ہیں۔ مہنگائی کا بوجھ عوام پر ہے اور اگر گندم کی ادائیگیاں نہیں ہو رہیں تو کسان متاثر ہو رہا ہے۔
پیٹرول کی قیمت 400 روپے سے اوپر گئی تو اس کا اثر بھی عوام پر پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتحال میں یہ تکلیف اب خواص تک بھی پہنچنا شروع ہو جائے گی اور حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں رہیں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان فوری مذاکرات شروع ہونے چاہییں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ تحریک تحفظ آئین کی موجودہ قیادت سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی اور سلمان راجہ جیسے رہنماؤں کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے تو کوٹ لکھپت جیل کے قیدیوں شاہ محمود قریشی، اعجاز چوہدری، محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمر چیمہ کو ریلیف دے کر انہیں مذاکرات میں شامل کرے۔ ان کے بقول اگر مقصد صرف لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے تو یہ الگ بات ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف روز مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیل میں قید پی ٹی آئی کارکنوں کو ریلیف دیا جائے، عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور وہ جن لوگوں سے ملنا چاہتے ہیں انہیں ملنے دیا جائے، تاکہ ملک کا سیاسی درجہ حرارت کم ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں پاکستان کے معاشی مسائل مزید بڑھیں گے، اس لیے سنجیدہ مذاکرات کا واحد راستہ اسیران کو ریلیف دے کر ان سے براہ راست بات چیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی جماعت اسلامی کی تحریک کا ثمر، جاوید قصوری
مولانا فضل الرحمان اور نئے صوبے
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان صرف سیاسی نہیں بلکہ مذہبی رہنما بھی ہیں، اس لیے حکومت کو ان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ وہ اپنے تلخ بیانات واپس لیں، جبکہ حکومت بھی مثبت سمت میں قدم بڑھائے۔
نئے صوبوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب سے محسن نقوی نے نئے صوبوں کی بات کی ہے، مسلم لیگ ن نے ان کے خلاف مہم شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے خلاف ہیں، جبکہ تحریک انصاف اس کی حامی ہے، لہٰذا حکومت اس معاملے پر پی ٹی آئی سے بات کرے۔








