لاہور(پنجاب پوسٹ) پنجاب پوسٹ کی خبر پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے سخت ایکشن لے لیا۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کی عدالتوں میں جعلی کورٹ فیس ٹکٹس کی تیاری اور فروخت کے ذریعے قومی خزانے کو مبینہ طور پر ڈیڑھ ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر اینٹی کرپشن نے ضلع کچہری کے مختلف دفاتر پر چھاپے مار کر جعلسازی میں استعمال ہونے والی مشینیں اور لاکھوں جعلی ٹکٹس قبضے میں لے لیے۔
اینٹی کرپشن نے سول کورٹ کی کاپی برانچ کے انچارج زمان اللہ اور ماڈل ٹاؤن کچہری کے ریکارڈ کیپر اعجاز احمد سمیت 9 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جبکہ متعدد ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ تحقیقات میں عدالتی دستاویزات کی مصدقہ نقول کے لیے بھی جعلی کورٹ فیس ٹکٹس استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
صرف لاہور میں روزانہ 15 لاکھ روپے کی کورٹ فیس آمدن متوقع ہونے کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں بھاری فرق سامنے آیا ہے۔ سال 2025 اور 2026 کے دوران عدالتی کام کے حجم اور سرکاری خزانے میں جمع ہونے والی رقم میں واضح فرق کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اسکینڈل کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دیگر ملوث سرکاری اہلکاروں اور کرداروں کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کا کہنا ہے کہ عدالتی نظام کے ساتھ فراڈ اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔












