لاہور(پنجاب پوسٹ) صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری علی حسام اصغر نے کہا ہے کہ لاہور چیمبر پاکستان کا سب سے بڑا چیمبر ہے، کاروباری برادری کے حوالے سے قوانین سازی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی اہم ادارے ہیں، تاہم وفاقی اور پنجاب حکومت کی جانب سے کاروباری افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی جانب سے کاروباری برادری کے گریبانوں تک ہاتھ ڈالے جا رہے ہیں، بڑے بڑے کاروباری شخصیات کو تھپڑ مارے جا رہے ہیں، جس کے باعث کاروباری برادری خوف کا شکار ہو چکی ہے اور تاجروں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔
علی حسام اصغر کا کہنا تھا کہ کاروباری افراد کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جائیں اور انہیں گرفتار کرنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ ایسے اقدامات سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے کاروباری برادری کو سپورٹ کرنا شروع کر دیا ہے اور اب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
صدر لاہور چیمبر نے مطالبہ کیا کہ سینیٹ میں کاروباری برادری سے متعلق قوانین پر غور کے لیے لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر کو متعلقہ کمیٹی کا رکن بنایا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک ریویو کمیٹی تشکیل دی جائے جو کاروباری برادری کے لیے مشکلات پیدا کرنے والے قوانین کا جائزہ لے اور ان میں ترامیم کے لیے تجاویز پیش کرے۔
انہوں نے قاسم گیلانی کی کاروباری برادری کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ کاروباری طبقے کے لیے نقصان دہ قوانین کی فہرست بھی ارسال کریں گے تاکہ ان میں بہتری کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔













