لاہور( پنجاب پوسٹ)حکومتی رکن اسمبلی فیلبوس کرسٹوفر نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مسیحی تعلیمی ادارے اقلیت کو واپس کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کی تعلیمی پالیسیوں کے باعث اب تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے بجائے انکی دینی تعلیمی دی جا رہی ہے،
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی: متعدد بلز اور قراردادیں منظور، تعلیم، صحت اور عوامی مسائل پر اہم فیصلے: پنجاب کے کون سے تعلیمی ادارے مسیحی برداری کے حوالے کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر اب سکولوں و کالجز میں اقلیتی طلبہ کو انکی مذہبی کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں۔
اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فیلبوس کرسٹوفر کا کہنا تھا کہ گارڈن کالج راولپنڈی ،سینٹ فرانس کالج انار کلی، سینٹ ینتھنی گرلز ہائی سکول، گورنمنٹ رنگ محل ہائی سکول اور دیگر اضلاع میں قائم اقلیتوں کے تعلیمی ادارے ہمیں واپس کیے جائیں،وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں ہماری داد ہو سکتی ہے
یہ بھی پڑھیں : گورنمنٹ کالج شاہکوٹ کو یونیورسٹی کا سب کیمپس بنانے کی راہ ہموار، آگے کیا ہوگا؟: پنجاب کے کون سے تعلیمی ادارے مسیحی برداری کے حوالے کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے؟کئی دہائیوں سے ہمارے مذہبی رہنما ان اداروں کی واپسی کےلیے کام کرتے رہے ہیں،یہ ادارے ہمارے چرچ کی پراپرٹی ہیں ہمیں واپس کئے جائیں ان کی واپسی سے ہم اسی طریقہ سے خدمت جاری رکھ سکیں،ہمارے ادارے تحویل میں لئے گئے تو یہ ادارے ہمارے ہی تھے جن اداروں پر کوئی مقدمہ بازی نہیں وہ بھی واپس نہیں کئے جا رہے۔
ایمانوئیل اطہر کا کہنا ہے کہ جب سے ہمارے تعلیمی ادارے قومیائے گئے ان میں سہولیات کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ، اقلیتوں نے تعلیم و صحت کے میدان میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔
پارلیمانی سیکرٹری نوشین عدنان نےکہا کہ محکمہ ہیومن رائٹس کی کمیٹی ایک ماہ میں اقلیتی اداروں کی واپسی کےلیے کام مکمل کرے گی، اقلیتی تعلیمی اداروں کی حوالگی کیلئے جیسے ہی کورٹس سے فیصلہ آئیں گے تو اس پر عمل درآمد کر دیں گے۔












