پنجاب اسمبلی: متعدد بلز اور قراردادیں منظور، تعلیم، صحت اور عوامی مسائل پر اہم فیصلے

لاہور( پنجاب پوسٹ) پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اہم قانون سازی اور قراردادوں کی منظوری دی گئی، جس میں تعلیم، صحت، سیفٹی اور عوامی مسائل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی۔

اجلاس کے دوران اختر سعید یونیورسٹی بل 2026 حکومتی رکن افتخار چھچھر نے ایوان میں پیش کیا، جسے ڈپٹی سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے مزید غور کے لیے دو ماہ کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

اسی طرح ایوان نے دی کوتھم گلوبل انسٹیٹیوٹ لاہور بل 2026 کی منظوری دے دی، جو حکومتی رکن میاں محمد منیر نے پیش کیا۔ اجلاس میں کلینیکل سائیکالوجسٹس کی لازمی رجسٹریشن اور لائسنسنگ سے متعلق قرارداد بھی کثرت رائے سے منظور کر لی گئی، جسے عامرہ خان نے پیش کیا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پنجاب میں مؤثر ریگولیٹری نظام نہ ہونے کے باعث غیر تربیت یافتہ افراد ذہنی صحت کے شعبے میں کام کر رہے ہیں، جس سے مریضوں خصوصاً خواتین اور بچوں کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ایوان نے وفاقی حکومت سے اس حوالے سے جامع قانون سازی کا مطالبہ کیا۔

مزید پڑھیں :قصور میں جعلی پولیس آفیسر کی اصلی اے ڈی سی کو دو بار دھمکی،پکڑا کیسے گیا؟: پنجاب اسمبلی: متعدد بلز اور قراردادیں منظور، تعلیم، صحت اور عوامی مسائل پر اہم فیصلے

دوران اجلاس پینل آف چیئرمین سمیع اللہ خان نے اسپیکر کی نشست سنبھالی۔ ننکانہ صاحب میں کرنٹ لگنے سے 15 بھینسوں کی ہلاکت کے واقعے پر بھی قرارداد منظور کی گئی، جسے آغا علی حیدر نے پیش کیا۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے حادثات کی روک تھام اور متاثرین کے نقصان کے ازالے کیلئے جامع پالیسی بنائی جائے۔ یہ واقعہ ننکانہ صاحب کے نواحی گاؤں کوٹ فاضل میں پیش آیا تھا۔ ایوان نے بچوں کی حفاظت کے لیے اسکول ٹرانسپورٹ میں سیفٹی کیمروں کی تنصیب سے متعلق قرارداد بھی منظور کی، جو ماریہ طلال نے پیش کی۔

مزید پڑھیں : گورنمنٹ کالج شاہکوٹ کو یونیورسٹی کا سب کیمپس بنانے کی راہ ہموار، آگے کیا ہوگا؟: پنجاب اسمبلی: متعدد بلز اور قراردادیں منظور، تعلیم، صحت اور عوامی مسائل پر اہم فیصلے

قرارداد میں پبلک و پرائیویٹ اسکولوں کی وینز، بسوں اور رکشوں میں کیمرے نصب کرنے کی سفارش کی گئی۔

تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اور اہم قرارداد بھی منظور کی گئی، جس کے تحت گورنمنٹ گریجویٹ کالج شاہکوٹ کو یونیورسٹی سب کیمپس قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ قرارداد رانا محمد ارشد نے پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ شاہکوٹ اور گردونواح میں یونیورسٹی کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ خصوصاً طالبات کو مشکلات کا سامنا ہے، لہٰذا اس ادارے کو سب کیمپس کا درجہ دیا جائے اور نئے پروگرامز شروع کیے جائیں۔

اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ تعلیمی اداروں کی اپ گریڈیشن اور نئے سب کیمپسز کے قیام سے نوجوانوں کو مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیم کی سہولیات میسر آئیں گی۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے