سرچ فار جسٹس کے زیر اہتمام ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،نوجوانوں کی بھرپور شرکت

لاہور(احسان اللہ اسحاق)انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم ’’سرچ فار جسٹس‘‘ کی جانب سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں ایک روزہ تربیتی و ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندگان اور انسانی حقوق کے ماہرین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نےشرکت کی،جس کا مقصد پاکستان کے قومی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ مؤثر روابط کو فروغ دینا تھا۔

WhatsApp Image 2026 05 05 at 7.39.44 AM


ورکشاپ میں قومی انسانی حقوق کے اداروں کے دائرہ کار، حدود اور انسانی حقوق کے تحفظ، احتساب اور پالیسی سازی میں ان کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس موقع پر ادارہ جاتی ڈھانچے اور ان کے عملی استعمال کے درمیان موجود خلا کو بھی اجاگر کیا گیا،
ورکشاپ شرکاء نے زور دیا کہ قومی انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ مضبوط روابط انسانی حقوق کو عملی شکل دینے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ ان اداروں کو شکایات کے اندراج، نظامی مسائل کی نشاندہی اور ادارہ جاتی ردعمل کے لیے مؤثر پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔
ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ملک بھر کی جامعات اور کالجوں میں کیمپس بیسڈ ہیومن رائٹس ایمبیسیڈر پروگرام شروع کیا جائے۔شرکاءکے مطابق یہ اقدام انسانی حقوق کی تعلیم کو فروغ دینے اور عوامی آگاہی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں صفائی کیلئے اے آئی کا استعمال کیسے کیا جائے گا؟: سرچ فار جسٹس کے زیر اہتمام ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد،نوجوانوں کی بھرپور شرکت


شرکاء کا کہنا تھا کہ مجوزہ پروگرام نوجوانوں کو ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے، ادارہ جاتی نظام کو سمجھنے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی و رپورٹنگ کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے گا۔

WhatsApp Image 2026 05 05 at 7.39.42 AM 1


ورکشاپ کے شرکاء اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ انسانی حقوق کے موجودہ ادارے اور قانونی تحفظات کم آگاہی اور کمزور روابط کے باعث مطلوبہ نتائج نہیں دے پا رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان اداروں کے ساتھ مؤثر روابط کو فروغ دیا جائے تاکہ انصاف اور احتساب تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔

WhatsApp Image 2026 05 05 at 7.39.43 AM


ورکشاپ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ سول سوسائٹی، سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان مستقل تعاون ناگزیر ہے تاکہ انسانی حقوق کی تعلیم کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے۔


دوسری جانب ’’سرچ فار جسٹس ‘‘نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے فروغ، بچوں کے تحفظ کے نظام کی بہتری اور نوجوانوں کی بامعنی شمولیت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے