ایران سمیت کوئی بھی علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہے تو وہ مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہوسکتا ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

لاہور ( پنجاب پوسٹ )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں ہیں اور علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھنے والے ممالک کو خوش آمدید کہا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سمیت کوئی بھی ملک، جو علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھتا ہو، معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ تاہم نئے ممالک کی شمولیت کا حتمی فیصلہ سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کی سیاسی قیادت کرے گی۔

ایران امریکا ثالثی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان محتاط انداز میں پُرامید ہے۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل کا ایک ماہ میں دو بار تہران جانا مثبت پیشرفت کی علامت ہے، کیونکہ اگر پیشرفت نہ ہوتی تو وہ دوبارہ تہران نہ جاتے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ثالثی کے عمل میں کچھ طاقتور عناصر کام بگاڑنے اور بلاجواز تنقید کرنے میں سرگرم ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ جاری تنازع اور جنگ ان کے مفاد میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈی پی او ننکانہ صاحب ارسلان زاہد کی ہدایت پر منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں جاری

سعودی عرب میں مزید پاکستانی فوجیوں کی تعیناتی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار صورتحال اور سیاسی قیادت کے فیصلوں پر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا دفاع پاکستان کے عزم کا حصہ ہے۔

یمن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان یمن کے اندرونی تنازع کا حصہ نہیں، یہ تنازع یمن کے اندرونی فریقوں کے درمیان ہے۔

خیبرپختونخوا کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز تیز کیے جائیں گے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے