پنجاب پوسٹ( ام حبیبہ) پاکستان تحریک انصاف ، بانی کی بہنوں اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے درمیان اختلافات شدید ہوچکے ہیں ، اس سلسلے میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی متحرک ہوچکی ہے، بانی کی بہنوں کو بیانات دینے سے روکنے کیلئے سلمان اکرم راجہ کو خصوصی ٹاسک دے دیا۔
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کے ایک ذریعے نے پنجاب پوسٹ کو بتایا کہ پارٹی میں غلط فہمیوں کی بنیادپر شروع ہونے والے اختلافات اب مزید گہرے ہوچکے ہیں ۔پی ٹی آئی کے اختلافات اور لڑائیوں کو ختم کرنےکیلئے پی ٹی آئی لیڈر شپ ، بانی کی بہنوں اور تحریک تحفظ آئین کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس جلد منعقد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں : لاہورمیں100سال سے جاری زمین کا تنازعہ حل،کب کیا ہوا؟ فیصلہ کب سنایا جائےگا؟: علیمہ خان کے متنازعہ بیانات، سلمان اکرم راجہ کو خصوصی ٹاسک مل گیا،بانی کی بہنوں کی زبان بندی لازمی ہے، پارٹی ذرائعپنجاب پوسٹ نے جب بیٹھک کے مقام کے بارے میں دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اجلاس کے پی ہاوس اسلام آباد یا وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ہوسکتا ہے ۔ جس میں پارٹی اور خاندان کےدرمیان اختلافات اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت پر عائد الزامات پر گفتگو کی جائے گی۔
ایک اور ذریعے نے پنجاب پوسٹ کو بتایا کہ تحفظ آئین پاکستان اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے سلمان اکرم راجہ سے کہا ہے کہ تمام مسائل کی بنیاد بانی کی بہنیں بالخصوص علیمہ خان ہیں ، جو متنازعہ بیانات دیتی ہیں اور اسکے بعد سوشل میڈیا پر پارٹی قیادت کیخلاف الزامات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ ناصر عباس کیخلاف بیانات کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی پی ٹی آئی کیساتھ مزید چلنے سے انکار کردیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس سے قبل سلمان اکرم راجہ اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بہنوں سے ملاقات کریں گے اور انہیں سوشل میڈیا اور پارٹی قیادت پر تنقید سے ہونے والے نقصانات بارے میں بتائیں گے ۔ساتھ ہی ان سے زبان بندی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔ ملاقات میں بہنوں کو مشاورتی اجلاس میں شرکت کی دعوت بھی دی جائے گی،
پنجاب پوسٹ کو اس حوالے سے علیمہ خان کے قریبی فرد نے بتایا کہ وہ بھائی کی صحت اور پارٹی کی حکمت عملی سے پریشان ہیں ، ساتھ ہی پارٹی قیادت کے رویے پر شک کا اظہار کر رہی ہیں اور اب وہ کسی بھی اعتماد کرنے کو بھی تیار نہیں
واضح رہے کہ سلمان اکرم راجہ اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے پہلے محمود خان اچکزئی بھی بہنوں سے ملاقات کر چکے ہیں ۔لیکن وہ ملاقاتیں بھی نتیجہ خیز نہیں رہی ہیں۔










