لاہور( اسریٰ بتول)ایک صدی سےزائد پراناوراثتی جائیداد کا تنازع، لاہور ہائیکورٹ نےفریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس محسن اخترکیانی نےصادق مسیح کی درخواست پرسماعت کی، جس میں 108سال پرانی جائیداد میں حصہ دینے سےمتعلق ٹرائل کورٹ کےفیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : لاہور کےکون کون سے سکولوں کو نواز شریف سکول آف ایمیننس کا درجہ دیا جائے گا؟: لاہورمیں100سال سے جاری زمین کا تنازعہ حل،کب کیا ہوا؟ فیصلہ کب سنایا جائےگا؟درخواستگزار کے وکیل کے مطابق، 1909 میں وساوا سنگھ کے دونوں بیٹوں کے نام وراثتی انتقال درج ہوا تھا، تاہم 1918میں ریونیوریکارڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک بیٹےکو غیر شادی شدہ قرار دیدیاگیااورمکمل جائیداد دوسرے بیٹےکےنام منتقل کردی گئی۔ اس اقدام کوچیلنج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں نیاٹریفک قانون تیار ،اب کتنے چالان ہونگے؟: لاہورمیں100سال سے جاری زمین کا تنازعہ حل،کب کیا ہوا؟ فیصلہ کب سنایا جائےگا؟عدالت نے سوال اٹھایا کہ100سال بعد جاری ہونیوالاڈیتھ سرٹیفکیٹ کس بنیاد پر قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نےریمارکس دیئےکہ ریکارڈ میں درخواستگزارکےدعوے کو ثابت کرنے کیلئےکوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔
وکیل نےبتایاکہ فروری1947 میں جائیداددوسرے بیٹے بڈھا سنگھ کےورثاء کےنام منتقل ہوئی، جبکہ قیام پاکستان کے بعد زمین مہاجرین کوالاٹ کردی گئی۔












