پولیس نے پرانے وقوعہ کو نیا بنا دیا؟ ملزم کے وکیل کا الزام، عدالت نے جسمانی ریمانڈ مسترد کر دیا

لاہور: ( پنجاب پوسٹ )ماڈل ٹاؤن کچہری کی عدالت نے غیر ملکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے میں نامزد ملزم احمد تنویر کے جسمانی ریمانڈ کی پولیس درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزم کا میڈیکل کرایا جائے اور شناخت پریڈ بھی کروائی جائے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ احمد سعید صائم نے پولیس کی درخواست پر سماعت کی۔ تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ شہری شعیب بٹ کو اغوا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں ملزمان کی شناخت پریڈ کروانی ہے، اس لیے ملزم کو شناخت پریڈ کے لیے جیل بھیجا جائے۔ پولیس کے مطابق ملزمان پر شعیب بٹ کو اغوا کرنے اور تشدد کرنے کا الزام ہے۔

ملزم کے وکیل صفدر شاہین پیرزادہ نے پولیس کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ پولیس نے پرانے وقوعہ کو نیا بنا کر پیش کیا ہے۔ وکیل کے مطابق ملزم احمد تنویر کو عامر ہوٹل کے باہر سے گرفتار کیا گیا، اور پولیس کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ ملزم کو بابا شاہ جمال سے گرفتار کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ اس مقدمے میں ملزم کی ضمانت ہو چکی ہے، جبکہ عدالت چاہے تو گرفتاری کی فوٹیج بھی پیش کی جا سکتی ہے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ "مجھے سب علم ہے۔”

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر رات بھر تشدد کیا گیا اور استدعا کی کہ ان کا مکمل میڈیکل چیک اپ کروایا جائے۔ فاضل جج نے ملزم سے استفسار کیا کہ کیا ان پر تشدد ہوا اور کیا وہ میڈیکل کروانا چاہتے ہیں، جس پر ملزم نے جواب دیا کہ جی ہاں، مجھ پر تشدد ہوا اور میں میڈیکل کروانا چاہتا ہوں۔واضح رہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ اچھرہ پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

مزید خبریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے