لاہور (پنجاب پوسٹ) سی سی ڈی اہلکار پر زیادتی کا الزام لگانے والی خاتون کے حوالے سے سابقہ مقدمات کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ ذرائع کے مطابق درخواست گزار ثناء ہدایت کا تعلق مبینہ طور پر ایسے گروہ سے ہے جو شہریوں کو ٹریپ کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کرواتا اور بعد ازاں مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کرکے اپنے بیانات سے منحرف ہوجاتا ہے۔ کاہنہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری جاری ہے اور حکام کے مطابق جلد حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق نسیم اختر نامی خاتون اس سے قبل بھی ثناء ہدایت کو عائشہ کے نام سے اپنی بیٹی ظاہر کرکے تھانہ نشتر کالونی لاہور میں مقدمہ درج کروا چکی ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انکوائری کے دوران ثناء کو اپنی بیٹی ظاہر کرنے کا دعویٰ درست ثابت نہ ہونے پر مقدمہ خارج کردیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق نسیم اختر اور ان کے شوہر اس سے قبل بھی لاہور کے مختلف تھانوں میں اسی نوعیت کے مقدمات درج کروا چکے ہیں، جو بعد ازاں ان کے بیانات سے منحرف ہونے پر خارج ہوگئے تھے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ تھانہ کاہنہ میں درج تحریری درخواست میں ثناء ہدایت نے نسیم اختر کا موبائل نمبر بھی درج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق درخواست میں نسیم اختر کا نمبر درج ہونے کو دونوں کے باہمی تعلقات سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم اس بنیاد پر کسی الزام کو ثابت شدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حکام کے مطابق کاہنہ واقعے کی غیر جانبدارانہ انکوائری جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے۔











