"ایک مریض کے لیے سب سے بڑی دوا وہ اعتماد ہے کہ کوئی اس کا خیال رکھنے والا موجود ہے۔”
وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن اور ہدایات کے مطابق، محکمہ صحت و آبادی کی فوکل پرسن ایم پی اے ماریہ طلال نے میاں میر ہسپتال کا تفصیلی معائنہ کیا۔ اس دورے کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ علاج کے لیے آنے والے شہریوں کو سہولیات کس حد تک میسر ہیں اور عملہ اپنی ذمہ داریاں کس طرح نبھا رہا ہے۔ یہ دورہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ صحت کا نظام صرف عمارتوں اور مشینوں کا نام نہیں، بلکہ انسانوں کی خدمت کا نام ہے۔
وارڈز میں مریضوں کے درمیان
بیماری کے بستر پر لیٹے انسان کو سب سے زیادہ تسلی کے دو بول چاہیے ہوتے ہیں۔
ایم پی اے ماریہ طلال نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا دورہ کیا اور وہاں موجود سہولیات کا بغور جائزہ لیا۔ انہوں نے مریضوں کے پاس جا کر ان سے براہِ راست گفتگو کی، ان کی خیریت دریافت کی اور علاج معالجے کے بارے میں پوچھا۔ مریضوں سے مفت ادویات کی فراہمی کے متعلق بھی معلومات لی گئیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ حکومتی سہولیات واقعی ضرورت مندوں تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں۔
فائر سیفٹی: ہر زندگی قیمتی ہے
ایک لمحے کی غفلت برسوں کا پچھتاوا بن سکتی ہے، اسی لیے حفاظت پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔
دورے کے دوران فائر سیفٹی کے انتظامات کو خاص اہمیت دی گئی۔ انہوں نے آگ بجھانے والے آلات (فائر ایکسٹنگوئشرز)، سموک ڈیٹیکٹرز اور ہنگامی خروج (ایمرجنسی ایگزٹ) کا معائنہ کیا۔ ہسپتال جیسی جگہ پر، جہاں سینکڑوں مریض اور ان کے تیماردار موجود ہوتے ہیں، ایسے حفاظتی انتظامات کا مکمل اور فعال ہونا انتہائی ضروری ہے۔
عملے کے لیے حوصلہ افزائی اور پیغام
جو ہاتھ دن رات دوسروں کی تکلیف کم کرتے ہیں، وہ بھی ستائش کے مستحق ہیں۔
ماریہ طلال نے ہسپتال کی سہولیات اور عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر عملے کو تلقین کی کہ وہ خدمتِ خلق کے مشن کو پوری ذمہ داری، لگن اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھاتے رہیں، کیونکہ مریض کی دعا ہی کسی بھی معالج کا سب سے بڑا انعام ہے۔
اختتامیہ
اس طرح کے دورے سرکاری اداروں میں احتساب اور بہتری کے عمل کو مضبوط کرتے ہیں۔ جب منتخب نمائندے خود زمینی حقائق دیکھتے ہیں تو عوام کا اعتماد بڑھتا ہے اور عملے میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ میاں میر ہسپتال کا یہ معائنہ اس بات کا پیغام ہے کہ پنجاب میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کا سفر جاری ہے۔









