لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے بچوں کی حوالگی سے متعلق والد کی آئینی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بچوں کی فلاح و بہبود والدین کے ترجیحی حق سے زیادہ اہم ہے۔ جسٹس شیریں عمران نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
عدالت نے والد کو فی بچہ 35 ہزار روپے ماہانہ خرچہ ادا کرنے اور اس میں سالانہ 10 فیصد اضافے کا حکم بھی برقرار رکھا۔ فیصلے کے مطابق والد مالی مشکلات یا بے روزگاری کا عذر پیش کرکے بچوں کے اخراجات کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی حوالگی کا فیصلہ کرتے وقت ان کی تعلیم، نگہداشت، عمر اور خواہش کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ بچوں کی فلاح و بہبود میں مالی ضروریات کے ساتھ جذباتی، نفسیاتی اور تعلیمی ضروریات بھی شامل ہیں۔
عدالت کے مطابق دونوں بچے اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں اور والد انہیں والدہ سے منتقل کرنے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔ بچے نجی اسکول میں زیر تعلیم ہیں اور انہوں نے عدالت میں بھی والدہ کے ساتھ رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
جسٹس شیریں عمران نے قرار دیا کہ بچوں کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے، تاہم اسے حتمی فیصلہ بنانے کے بجائے مجموعی حالات کے تناظر میں دیکھا جائے۔ گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت بچوں کی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور والدین میں سے کسی کا ترجیحی حق بچوں کی بہتری پر فوقیت نہیں رکھتا۔
فیصلے کے مطابق ماتحت عدالتوں کے احکامات میں کوئی قانونی خامی یا شواہد کی غلط تشریح ثابت نہیں ہوئی، لہٰذا والد کی بچوں کی حوالگی کی درخواست مسترد کردی گئی، جبکہ بچوں سے ملاقات کا طے شدہ شیڈول برقرار رکھا گیا۔













