لاہور(پنجاب پوسٹ) شہر میں جیب تراش پہلے سے زیادہ سرگرم ہوگئے، گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے سات ماہ کے دوران جیب تراشی کی وارداتوں میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق سال 2025ء کے پہلے سات ماہ کے دوران لاہور میں جیب تراشی کے 13 ہزار 114 مقدمات درج ہوئے، جبکہ رواں سال کے پہلے سات ماہ میں جیب تراشی کی 14 ہزار 332 وارداتیں رپورٹ ہوچکی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صدر ڈویژن میں گزشتہ برس جیب تراشی کے 2 ہزار 396 مقدمات درج ہوئے تھے، جو رواں سال بڑھ کر 2 ہزار 686 ہوگئے۔ کینٹ ڈویژن میں گزشتہ برس 1 ہزار 120 وارداتیں رپورٹ ہوئی تھیں، جبکہ رواں سال یہ تعداد بڑھ کر 2 ہزار 548 ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کی فیس کتنی ہوگئی ہے؟ اب لائسنس کیسے جاری ہونگے؟
اقبال ٹاؤن ڈویژن میں بھی جیب تراشی کے واقعات میں اضافہ ہوا، جہاں گزشتہ برس 1 ہزار 886 مقدمات کے مقابلے میں رواں سال 1 ہزار 956 وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔
دوسری جانب سول لائنز ڈویژن میں جیب تراشی کے مقدمات کی تعداد 1 ہزار 696 سے کم ہوکر 1 ہزار 380 ہوگئی۔ سٹی ڈویژن میں گزشتہ برس 3 ہزار 176 کے مقابلے میں رواں سال 2 ہزار 976 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں بھی جیب تراشی کے واقعات 2 ہزار 840 سے کم ہوکر 2 ہزار 786 ہوگئے۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال کینٹ، صدر اور اقبال ٹاؤن ڈویژن میں جیب تراشی کی وارداتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ سٹی، سول لائنز اور ماڈل ٹاؤن ڈویژن میں ان واقعات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جیب تراشی کی بیشتر وارداتیں مزارات، بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنز، بازاروں اور جنازوں کے دوران رش والی جگہوں پر ہوئیں، جہاں جیب تراش ہجوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شہریوں کو قیمتی سامان سے محروم کرتے ہیں۔














