اے آئی کے دور میں کتاب بینی، پنجاب یونیورسٹی میں ریکارڈ قائم، 3 روز میں 2 لاکھ 30 ہزار کتابیں فروخت ہوئیں

لاہور (پنجاب پوسٹ) مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے دور میں بھی کتابوں سے محبت برقرار، پنجاب یونیورسٹی میں تین روزہ کتاب میلہ اختتام پذیر ہوگیا، جس کے دوران مجموعی طور پر 2 لاکھ 30 ہزار کتابیں فروخت ہوئیں۔ کتاب میلے میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مطالعے کے فروغ کے لیے اس اقدام کو سراہا۔

پنجاب یونیورسٹی میں سجنے والے تین روزہ کتاب میلے میں مختلف موضوعات پر کتابوں کے اسٹالز سجائے گئے، جہاں طلبہ اور شہری اپنی پسندیدہ کتابوں کی تلاش میں مصروف دکھائی دیے۔ میلے کے آخری روز بھی شرکا کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مختلف موضوعات پر دستیاب کتابوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

تین روز کے دوران 2 لاکھ 30 ہزار کتابوں کی فروخت کو مطالعے میں دلچسپی رکھنے والے افراد کی بھرپور شرکت کا عکاس قرار دیا گیا۔ طلبہ اور شہریوں کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل دور میں کتابوں سے تعلق برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا اور موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود کتابیں علم حاصل کرنے اور مطالعے کی عادت پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

شرکا نے کہا کہ ایسے کتاب میلے نوجوانوں کو کتب بینی کی جانب راغب کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔ شہریوں نے بھی اس سرگرمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کتاب میلوں کا انعقاد علم و ادب کے فروغ اور مثبت معاشرتی رجحانات کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں تین روزہ کتاب میلے کے دوران 2 لاکھ 30 ہزار کتابوں کی فروخت اور طلبہ و شہریوں کی بھرپور شرکت نے مطالعے کے فروغ کے لیے ایسی سرگرمیوں کی اہمیت کو اجاگر کردیا۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے