پنڈی بھٹیاں میں مچھلیوں کی ہلاکت کی وجہ جعلی کھاد یا کچھ اور؟ 50 لاکھ کے نقصان کے دعوے نے معاملہ مشکوک بنا دیا

حافظ آباد (پنجاب پوسٹ) تحصیل پنڈی بھٹیاں کے نواحی علاقے چک کھرل میں فش فارم پر مچھلیوں کی ہلاکت کے واقعے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے، جہاں متاثرہ کسان نے جعلی ڈی اے پی کھاد کے باعث 50 لاکھ روپے سے زائد نقصان کا دعویٰ کیا ہے، تاہم کھاد کی 250 بوریوں اور نقصان کی مالیت سے متعلق پہلوؤں کی تحقیقات بھی ضروری ہیں۔

متاثرہ کسان رائے محمد بخش کھرل کے مطابق فش فارم میں 250 بوریاں ڈی اے پی کھاد ڈالنے سے تمام مچھلیاں ہلاک ہوگئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جعلی کھاد کے باعث چھ ایکڑ پر قائم فش فارم میں مچھلیوں کی ہلاکت سے 50 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

متاثرہ کسان کے مطابق محکمہ زراعت کی لیبارٹری رپورٹ میں کھاد کے جعلی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ذرائع محکمہ زراعت کے مطابق پولیس نے جعلی کھاد کا بچا ہوا اسٹاک قبضے میں لے کر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

دوسری جانب اس معاملے میں بعض اہم سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق 250 بوری ڈی اے پی کھاد کی قیمت بھی تقریباً 50 لاکھ روپے بنتی ہے، جبکہ چھ ایکڑ پر مشتمل فش فارم میں اتنی بڑی مقدار میں کھاد کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

تحقیقاتی ٹیموں کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھاد کی اصل مقدار، قیمت، استعمال کے طریقہ کار، مچھلیوں کی ہلاکت کی وجوہات اور دعویٰ کردہ مالی نقصان کا تفصیلی جائزہ لیں تاکہ واقعے کے تمام حقائق سامنے آسکیں۔

متاثرہ کسان نے وزیراعلیٰ پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر سے داد رسی کی اپیل کرتے ہوئے نقصان کے ازالے اور رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے