لاہور (پنجاب پوسٹ) پولیس ملازمین کے مبینہ ناروا سلوک اور شہری کو برہنہ کرنے کے الزام سمیت مختلف شکایات ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی کھلی کچہری میں پہنچ گئیں۔ شہری نے پولیس ملازمین کے رویے کے خلاف شکایت کی، جس پر ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او سمن آباد کو 24 گھنٹے کے اندر ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔
کھلی کچہری میں اوورسیز پاکستانی نے ایک کروڑ 45 لاکھ روپے ادا کرنے کے باوجود پلاٹ نہ ملنے کی شکایت کی۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس ایچ او شاہدرہ ٹاؤن کو شواہد کی روشنی میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔
وزیرستان کے رہائشی نے کانجی کمپنی کی جانب سے تین ماہ کی تنخواہ ادا نہ کیے جانے کی شکایت کی، جس پر فیصل کامران نے ایس ایچ او شفیق آباد کو شہری کو تنخواہ دلوانے کے لیے ہدایت جاری کی۔
کھلی کچہری میں سود خوروں کی جانب سے دھمکیاں ملنے کی شکایت بھی سامنے آئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ اوز ٹبی سٹی، گجر پورہ اور غالب مارکیٹ کو متعلقہ شکایات پر کارروائی کرنے کا حکم دیا۔
اس موقع پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پولیس ہر مظلوم کی مدد کے لیے الرٹ ہے اور ہراسگی سمیت سماجی جرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنا اور قانونی رہنمائی دینا پولیس کا فرض ہے۔
فیصل کامران کے مطابق شہریوں کی براہِ راست شنوائی کے لیے وہ ہفتے میں چھ روز اپنے دفتر میں کھلی کچہری لگاتے ہیں، جبکہ اتوار کو دوپہر 12 بجے فیس بک لائیو کے ذریعے شہریوں کی شکایات اور تجاویز بھی سنتے ہیں۔











