سیالکوٹ (پنجاب پوسٹ) وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں کوئی یہ نہ سمجھے کہ قانونی اور آئینی بھگدڑ مچی ہوئی ہے، مختلف سیاسی چالیں اب کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ محمود غزنوی کہاں گیا جو اسلام آباد آنے کی بات کرتا تھا؟
سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں مولانا فضل الرحمان سیاسی سرگرمیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ملک کی معاشی اور سفارتی کامیابیوں میں فیلڈ مارشل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ فوجی فاؤنڈیشن نے 323 ارب روپے ٹیکس ادا کیا ہے۔ فوجی فاؤنڈیشن کی کارکردگی دیکھیں اور سویلین اداروں کی صورتحال کا جائزہ لیں، کئی سویلین ادارے بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان اسٹیل ملز بند پڑی ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر نواز شریف بینکوں کی نجکاری نہ کرتے تو بینک دیوالیہ ہو جاتے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایک درست ہم سفر کا کردار ادا کیا اور سویلین و عسکری اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ ان کے مطابق سویلین اور عسکری اداروں کے اشتراک کے ثمرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔
خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آنے والے دنوں میں نئی تاریخ رقم ہوگی اور خیبرپختونخوا سے متعلق قانونی و آئینی معاملات بھی واضح ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کسی لٹیرے کے ہاتھ میں نہیں دیں گے۔
وفاقی وزیر دفاع نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ آج تک کسی شہید کے جنازے میں شریک نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جس ادارے پر تنقید کی جا رہی ہے، اس نے جانوں کی قربانی دے کر اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔











