لاہور( پنجاب پوسٹ) محکمہ جنگلات مری نے بھوربن کے علاقے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے 43 سال پرانا غیر قانونی قبضہ ختم کروا کر 5 ایکڑ قیمتی سرکاری اراضی واگزار کروا لی۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ زمین 1953 میں محکمہ تعلیم کو 30 سالہ لیز پر دی گئی تھی۔ لیز کی مدت 1983 میں ختم ہو گئی، لیکن اس کے باوجود زمین پر 39 نجی فرموں نے غیر قانونی طور پر کمرشل سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی تھیں۔
محکمہ جنگلات کے افسران نے پولیس کی مدد سے آپریشن کیا اور دہائیوں سے قائم قبضہ ختم کروایا۔ واگزار کروائی گئی 5 ایکڑ زمین کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جا رہی ہے۔
سول سوسائٹی اور مقامی افراد نے محکمہ جنگلات کی کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جن 39 فرموں نے سرکاری زمین پر غیر قانونی کمرشل ایکٹیویٹی کی، انہیں بھی احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
محکمہ جنگلات کے ترجمان کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی اور سرکاری جنگلات کی ایک انچ زمین کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا















