گوجرانوالہ (پنجاب پوسٹ) سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے محکمانہ احتساب کے تحت گوجرانوالہ پولیس کے 22 افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 20 کو ملازمت سے برطرف اور کرپشن میں ملوث 2 سب انسپکٹرز کو عہدوں سے تنزلی دے کر اے ایس آئی بنا دیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق اسپیشل لاء اینڈ آرڈر ڈیوٹی کے دوران بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرار ہونے اور غیر حاضر رہنے پر سب انسپکٹر سمیت 15 اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کیا گیا۔ ان میں سب انسپکٹر کامران طفیل، کانسٹیبلان غلام عباس، شہباز اختر، احمد رضا، محمد طارق، محمد سفیان، عبدالرؤف، قیصر نواز، محمد خالد، شکیل شوکت، فراز احمد، شاہد عثمان، آصف فرید، شاہد رضا اور ڈرائیور کانسٹیبل افتخار احمد شامل ہیں۔
کرپشن میں ملوث سب انسپکٹر مشتاق کو ملازمت سے برخاست کر دیا گیا، جبکہ سب انسپکٹرز اشتیاق اور یاسین کو عہدوں سے تنزلی دے کر اے ایس آئی بنا دیا گیا۔ مسلسل غیر حاضری پر لیڈی سب انسپکٹر تہذیب شوکت اور لیڈی کانسٹیبل ایمان عزیز کو بھی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔
سینئر افسر سے بدتمیزی اور ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر ٹریفک اسسٹنٹ عبداللہ کو ملازمت سے برخاست کیا گیا، جبکہ جوڈیشل ڈیوٹی کے دوران منشیات کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو پیشی کے موقع پر پروٹوکول دینے پر کانسٹیبل محمد ارشد کو بھی ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔
سی پی او ڈاکٹر سردار غیاث گل خان نے کہا کہ بزدل اور نااہل افسران کے لیے فورس میں کوئی جگہ نہیں، ڈسپلن کے معاملے میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ محکمہ پولیس میں خود احتسابی کا عمل جاری رہے گا اور محکمے کی بدنامی کا باعث بننے والے افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔











