حساس علاقے میں واقع گرینڈ حیات بلڈنگ کیس: اربوں کے واجبات نہ دینے پر لیز منسوخی، فلیٹس خریدنے والوں کا کیا ہوگا؟

اسلام آباد ( پنجاب پوسٹ) پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے ریڈ زون میں واقع ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو یا گرینڈ حیات بلڈنگ کو خالی کروانے کے لیے انتظامیہ نے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری پہلے کنونشن سینٹر میں جمع ہوئی اور پھر کچھ دیر بعد سرینا ہوٹل کے قریب واقع ان ٹاورز کی جانب پیش قدمی کی۔ یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اصل کہانی کیا ہے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت گرینڈ حیات/بی این پی لیز منسوخی کیس میں عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ اس وقت یہ کیس سرکاری زمین کے استعمال، اربوں روپے کے واجبات اور خریداروں کے حقوق سے جڑا ایک پیچیدہ قانونی معاملہ بن چکا ہے۔
اصل کہانی کب شروع ہوئی؟

یہ تنازع 2005 میں اس وقت شروع ہوا جب کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد میں جناح کنونشن سینٹر کے قریب تقریباً 13.5 ایکڑ سرکاری زمین ایک فائیو سٹار ہوٹل منصوبے کے لیے لیز پر دی۔ میسرز بی این پی (BNP) نے 4.882 ارب روپے کی بلند ترین بولی دے کر یہ منصوبہ حاصل کیا اور ابتدائی طور پر صرف 15 فیصد ادائیگی کے بعد کمپنی کو زمین کا قبضہ دے دیا گیا۔ تاہم اس کے بعد ادائیگیوں میں تعطل آیا اور کمپنی بار بار ری شیڈولنگ کے ذریعے واجبات کی ادائیگی مؤخر کرتی رہی۔

بات عدالت تک کیسے پہنچی؟

یہ معاملہ بالآخر عدالتوں تک جا پہنچا اور 9 جنوری 2019 کو سپریم کورٹ نے لیز بحال کرتے ہوئے بی این پی کو ہدایت کی کہ وہ پہلے سے ادا شدہ رقم منہا کر کے 17.5 ارب روپے ادا کرے۔ تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق کمپنی اب تک صرف 2.916 ارب روپے ادا کر سکی ہے جبکہ 14.583 ارب روپے بدستور واجب الادا ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی کی 1.689 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی اب تک تجدید نہ ہو سکی۔

سی ڈی اے کے نوٹسز

سی ڈی اے نے دسمبر 2022 میں واجبات اور بینک گارنٹی کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے اور 7 فروری 2023 کو لیز ختم کرنے کا عندیہ دیا۔ مسلسل عدم ادائیگی کے بعد 8 مارچ 2023 کو لیز باضابطہ طور پر منسوخ کر دی گئی۔ حکام کے مطابق بی این پی کی جانب سے واجبات کو کمرشل جگہ کے بدلے ایڈجسٹ کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی کیونکہ اس سے دیگر ڈیفالٹرز کے لیے ایک نظیر قائم ہونے کا خدشہ تھا۔

معاہدے کے برعکس اقدامات!

اس کیس کا ایک اہم اور پیچیدہ نقطہ وہ اپارٹمنٹس اور کمرشل یونٹس ہیں جو معاہدے کے برعکس منصوبے میں شامل کیے گئے۔ دستاویزات کے مطابق بی این پی نے ہوٹل منصوبے کے اندر 263 فلیٹس تعمیر کیے حالانکہ اصل لیز شرائط میں اس کی اجازت نہیں تھی۔ سی ڈی اے نے ان فلیٹس کے باہر نوٹسز بھی آویزاں کیے تھے جن میں ممکنہ خریداروں کو متنبہ کیا گیا تھا کہ یہ ایک متنازعہ منصوبہ ہے تاہم اس کے باوجود خرید و فروخت کا سلسلہ جاری رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق ان 263 فلیٹس میں سے صرف 69 میں لوگوں نے رہائش اختیار کی ہوئی ہے جبکہ باقی فلیٹس سرمایہ کاری کی غرض سے خریدے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ زیر استعمال فلیٹس میں بھی ایک بڑی شرح مختصر وقت کے لیے فلیٹس کرایے پر دیتے آئے ہیں جنہیں ‘ایئر بی این پی’ کہا جاتا ہے۔ اس وجہنسے یہ معاملہ مزید پیچیدہ بنا ہوگیا ہے۔

حالیہ پیش رفت

حالیہ پیش رفت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر سی ڈی اے اور اسلام آباد پولیس نے ان فلیٹس کے مکینوں کو نوٹسز جاری کیے جن میں انہیں سات روز کے اندر یونٹس خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔ دوسری جانب حکومت نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اصل خریداروں کو ان کی ادا کردہ رقم کی واپسی کے لیے ایک طریقہ کار طے کیا جا سکتا ہے جسے بعض حلقے ریاست کی جانب سے ایک غیر معمولی رعایت قرار دے رہے ہیں۔

یہ مقدمہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں نہ صرف ایک نجی کمپنی کے معاہداتی ڈیفالٹ کا جائزہ لیا جا رہا ہے بلکہ یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ جب کسی منصوبے میں تیسرے فریق شامل ہو جائیں تو ریاست، ڈویلپر اور خریداروں کے حقوق اور ذمہ داریوں کا توازن کیسے قائم کیا جائے؟ یعنی یہ ایک زاویے سے پراپرٹی ڈویلپرز کے لیے ایک مثالی کیس بھی ہے۔

حکومتی موقف

حکومتی مؤقف کے مطابق یہ معاملہ کسی سیاسی انتقام کا نہیں بلکہ قانون کے نفاذ اور عوامی وسائل کے تحفظ کا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا جاتا ہے تاہم سرکاری زمین کے غلط استعمال، واجبات کی عدم ادائیگی اور معاہداتی خلاف ورزی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں موجود کئی حلقوں کو اب عدالت کے محفوظ فیصلے کا انتظار ہے جو نہ صرف اس منصوبے بلکہ مستقبل میں اسی نوعیت کے دیگر کمرشل اور رئیل سٹیٹ منصوبوں کے لیے بھی ایک اہم نظیر قائم کر سکتا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے