لاہور (پنجاب پوسٹ) ایوانِ اوقاف میں ”منبر و محراب کا کردار اور ہماری ذمہ داریاں“ جبکہ جامعہ ہجویریہ، حضرت میاں میر کمپلیکس میں تصوف کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جن کی صدارت سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کی۔ سیمینارز میں ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور حافظ انیس الرحمن اور چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سیّد عبد الخبیر آزاد نے خصوصی شرکت کی۔
سیمینارز میں صاحبزادہ حافظ زبیر حسن اشرفی، مولانا احسان اللہ تبسم، مولانا محمد اسلم صدیقی، مفتی انتخاب احمد نوری سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ اس موقع پر علماء کرام نے معاشرے میں امن، برداشت، باہمی احترام، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سیکرٹری اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات امن، محبت اور اتحاد کی ضمانت ہیں۔ علماء و مشائخ منبر و محراب کے ذریعے مذہبی ہم آہنگی، رواداری اور پیغامِ پاکستان کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ سیمینارز کا مقصد معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی، اتحاد بین المسلمین اور استحکامِ پاکستان کی ترویج ہے۔
ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ برصغیر میں اسلام کی ترویج اور اسلامی تہذیب و اقدار کے استحکام میں اولیائے کرام نے غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ صوفیائے کرام نے پاکیزہ کردار، حسنِ اخلاق، رواداری اور بے لوث خدمتِ خلق کے ذریعے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو فروغ دیا۔
چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا سیّد عبد الخبیر آزاد نے کہا کہ محراب و منبر معاشرے کی فکری و اخلاقی رہنمائی کے اہم مراکز ہیں۔ علماء کرام اختلافات کو باہمی احترام اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی ترغیب دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علماء معاشرتی امن اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں۔
ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور حافظ انیس الرحمن نے کہا کہ صوفیائے کرام کی تعلیمات محض روحانی وابستگی تک محدود نہیں بلکہ انسانیت سے محبت، اخوت، تحمل، برداشت، ایثار اور احترامِ آدمیت کا جامع پیغام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کی علمی و روحانی میراث موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ہے۔
سیمینارز میں دیگر علماء کرام نے بھی اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور میں معاشرے سے نفرت اور انتشار کی حوصلہ شکنی کے لیے اخلاقی اقدار کو مضبوط بنانا اور باہمی احترام، برداشت اور رواداری کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔











