ملتان (پنجاب پوسٹ) پنجاب میں جنگلات کے تحفظ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے پہلی بار خواتین پر مشتمل فاریسٹ فورس قائم کر دی گئی، پولیس ٹریننگ کالج ملتان میں 212 خواتین فاریسٹ انسپکٹرز اور رینجرز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ منعقد ہوئی، جس میں خواتین اہلکاروں نے دو ماہ کی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈائریکٹر جنرل فاریسٹ پنجاب محمد اظفر ضیاء تھے، جبکہ ڈی آئی جی و کمانڈنٹ پولیس ٹریننگ کالج ملتان عبدالرب چوہدری نے ان کا استقبال کیا۔ تربیت مکمل کرنے والی خواتین میں 30 انسپکٹرز اور 182 فاریسٹ رینجرز شامل ہیں۔
پاسنگ آؤٹ پریڈ کے دوران خواتین اہلکاروں نے شاندار مارچ پاسٹ، مارشل آرٹس، اسلحہ چلانے اور دیگر پیشہ ورانہ مہارتوں کا عملی مظاہرہ کیا، جبکہ انسانی مینار کی پیشکش بھی تقریب کا حصہ تھی۔ خواتین اہلکاروں کو ویپن ہینڈلنگ، متعلقہ قوانین اور فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے تربیت دی گئی۔

ڈائریکٹر جنرل فاریسٹ پنجاب محمد اظفر ضیاء نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب نے محکمہ جنگلات کو منظم فورس بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی محکمے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں ساڑھے 16 لاکھ ایکڑ رقبہ محکمہ جنگلات کے پاس ہے، تاہم اتنے بڑے رقبے کے باوجود نہروں اور سڑکوں کے کنارے درخت نظر نہیں آتے تھے۔ محکمہ جنگلات کی تاریخ میں 70 سال بعد قوانین میں تبدیلی کی گئی، جبکہ فارسٹ گارڈز کی جگہ ایک ہزار فارسٹ رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔
ڈی جی فاریسٹ کے مطابق تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں اور نئی بھرتیوں کے ساتھ اہلکاروں کو مسلح کرنے کے علاوہ بہترین تربیت بھی فراہم کی گئی ہے۔ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین کو محکمہ جنگلات کی فرنٹ لائن فورس میں نمائندگی دی گئی ہے۔

محمد اظفر ضیاء نے کہا کہ جنوبی پنجاب ان کا اپنا گھر ہے اور انہیں فخر ہے کہ پولیس ٹریننگ کالج ملتان میں فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو بہترین تربیت دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات کو ایک مؤثر پروٹیکشن فورس کے طور پر حوصلے، جرات اور ایمانداری کے ساتھ آگے لے کر چلیں گے۔
اب 212 خواتین فاریسٹ انسپکٹرز اور رینجرز کے سامنے جنگلات کے تحفظ، غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور ٹمبر مافیا کے خلاف مؤثر کارروائیوں کی اہم ذمہ داری ہوگی۔ تاہم اس فورس کی عملی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تربیت یافتہ خواتین کو اختیارات، وسائل اور فیلڈ میں مؤثر معاونت کس حد تک فراہم کی جاتی ہے۔











