لاہور (پنجاب پوسٹ) لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اور ممبران تعینات نہ کرنے کے معاملے پر چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے خاتون آمنہ امیر عبداللہ کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیے کہ چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کا ایک طریقہ کار موجود ہے، طریقہ کار کے مطابق پراسس ہونے دیں۔ اگر آپ مطمئن نہ ہوں تو رٹ پٹیشن دائر کر لیں۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب خواتین کمیشن کا ادارہ 2014 میں قانون سازی کے ذریعے قائم کیا گیا، تاہم 2019 سے کمیشن کی چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی نہیں کی گئی۔ طویل عرصے سے خواتین کے حقوق کے تحفظ کا یہ ادارہ سربراہ اور ممبران سے محروم ہے۔
درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے چیف سیکرٹری پنجاب کو درخواست پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن عدالتی حکم کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چیف سیکرٹری پنجاب کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور پنجاب خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کا حکم دیا جائے، تاہم عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔











