کے پی میں گورنر راج پہلے ہی لگ جانا چاہیے تھا، صدر آصف علی زرداری نے تاخیر کی، سردار سلیم حیدر خان

لاہور (پنجاب پوسٹ) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا ہے کہ گورنر راج کوئی غیر آئینی اقدام نہیں، خیبر پختونخوا میں یہ پہلے ہی نافذ ہو جانا چاہیے تھا، تاہم صدر آصف علی زرداری کی وجہ سے تاخیر ہوئی۔ گورنر راج سیاسی تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے باعث نافذ کیا گیا۔

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے لاہور کے علاقے شام نگر میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور پختون فلاحی تنظیم کے صدر حاجی نادر خان کی والدہ کے انتقال پر ان سے تعزیت کی اور مرحومہ کی مغفرت کے لیے دعا کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ تعزیت کے لیے آئے ہیں، حاجی نادر خان اور ان کے بھائیوں کی پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بہت خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شہیدوں کے وارث کو وزیراعظم بنانا ہے۔

سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ گورنر راج غیر آئینی نہیں، میں اسے ناپسندیدہ اقدام بھی نہیں کہہ سکتا۔ صدر پاکستان نے سمری پر دستخط کیے ہیں، اس لیے یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کو اون کیا ہوا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں صورتحال مختلف تھی۔ وہاں کے اضلاع میں لوگ نقل و حرکت نہیں کر سکتے تھے اور صوبائی حکومت دہشت گردوں کو اپنا بھائی قرار دیتی تھی۔ ان حالات میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج پہلے ہی نافذ ہو جانا چاہیے تھا، لیکن صدر آصف علی زرداری نے اس میں تاخیر کی۔

گورنر پنجاب نے سوال اٹھایا کہ کیا افواج پاکستان کے شہداء شہید نہیں؟ کیا ہم اسی طرح اپنے بچوں کو مرواتے رہتے؟ کیا ایسے حالات میں گورنر راج نافذ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج سیاسی تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ دہشت گردی کے باعث نافذ کیا گیا ہے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے