درخواست دی تو پورٹل بند؟ لاہور ہائیکورٹ کا میڈیکل یونیورسٹی کو توہینِ عدالت کے نوٹس کا عندیہ، زائد فیس وصولی کے خلاف حکمِ امتناعی میں توسیع

لاہور (پنجاب پوسٹ) میڈیکل کالج کے طلبہ سے مقررہ حد سے زائد فیس وصولی کے خلاف درخواستیں دائر کرنے پر البات کے پورٹلز بند کرنے کا معاملہ لاہور ہائیکورٹ پہنچ گیا، عدالت نے پورٹلز بند کرنے پر توہینِ عدلت کا نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے زائد فیس وصولی کے خلاف حکمِ امتناعی میں توسیع کر دی۔

جسٹس خالد اسحاق نے میڈیکل کی طالبہ نادیہ بتول سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزار طالبات کی جانب سے ایڈووکیٹ عبداللہ کسر نے دلائل دیے، جبکہ درخواست میں پی ایم ڈی سی، مدینہ میڈیکل یونیورسٹی فیصل آباد سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کی جانب سے زائد فیس وصولی کے خلاف درخواستیں دائر کرنے پر ان کے پورٹلز بند کر دیے گئے ہیں۔ اس پر عدالت نے یونیورسٹی کے پرنسپل کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا عندیہ دیا۔

یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ توہینِ عدالت کا نوٹس جاری نہ کیا جائے، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی طالب علم کا پورٹل بند کرنے کی درخواست سامنے آئی تو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کریں گے۔

درخواست گزاروں کے مؤقف کے مطابق پی ایم ڈی سی نے میڈیکل طلبہ کی فیسوں کے حوالے سے طریقہ کار وضع کر رکھا ہے اور سالانہ فیس 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، تاہم مدینہ میڈیکل یونیورسٹی فیصل آباد پی ایم ڈی سی کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد نہیں کر رہی اور طلبہ سے 26 لاکھ روپے سے زائد فیس وصول کی جا رہی ہے۔

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ مدینہ میڈیکل یونیورسٹی فیصل آباد کو مقررہ حد سے زائد فیس وصول کرنے سے روکا جائے اور طلبہ سے وصول کی گئی اضافی فیس واپس کرنے کا حکم دیا جائے۔

Share this article

سبسکرائب

سبسکرائب بٹن دبا کر، آپ تصدیق کرتے ہیں کہ آپ نے ہماری پرائیویسی پالیسی پڑھ لی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے