لاہور(پنجاب پوسٹ)لاہور ہائیکورٹ نے کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیوں کے تنازعات میں محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کو براہ راست انکوائری کرنے کے اختیار سے محروم قرار دیتے ہوئے سوسائٹی کے خلاف جاری انکوائری کالعدم کر دی۔ جسٹس جواد ظفر نے نجی کوآپریٹو سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری شیخ صداقت کی درخواست پر تفصیلی دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
سماعت کی تفصیلات
دورانِ سماعت جسٹس جواد ظفر نے ریمارکس دیے کہ قانون میں واضح طور پر درج ہے کہ اینٹی کرپشن کو براہ راست انکوائری کا اختیار حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوآپریٹو سوسائٹی ایکٹ کی دفعہ 63 کے تحت صرف رجسٹرار کی سفارش پر ہی پراسیکیوشن ہو سکتی ہے۔
اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے موقف اختیار کیا کہ دفعہ 65 کے تحت کوآپریٹو سوسائٹی کے ممبران پبلک سرونٹ کی تعریف میں آتے ہیں۔
اس پر جسٹس جواد ظفر نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ دفعہ 65 کی تشریح کر کے سوسائٹی ممبران کو پبلک سرونٹ کی تعریف سے خارج کر چکی ہے، جبکہ ہائیکورٹ کوآپریٹو سوسائٹیز کے تنازعات میں اینٹی کرپشن کی مداخلت پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔
جسٹس جواد ظفر نے استفسار کیا کہ جب اینٹی کرپشن کا اختیار ہی کالعدم ہو چکا ہے تو عوام کو کیوں تنگ کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے ہدایت کی کہ لوگوں کو تنگ کرنا چھوڑ دیا جائے، اور جو اختیار رجسٹرار کوآپریٹو کا ہے وہ اینٹی کرپشن استعمال نہیں کر سکتا۔
اینٹی کرپشن کی یقین دہانی
عدالت کے سامنے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے یقین دہانی کرائی کہ وہ آئندہ درخواست گزار کو تنگ نہیں کریں گے اور اگر کسی انکوائری کی ضرورت پیش آئی تو پہلے رجسٹرار سے اجازت لی جائے گی۔
درخواست گزار کے وکیل کے دلائل
میاں دائود ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ اینٹی کرپشن لاہور نے ایک عادی شکایت کنندہ کی درخواست پر سوسائٹی کے خلاف انکوائری رجسٹرڈ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت کوآپریٹو سوسائٹیوں کے خلاف ہر قسم کے تنازعات کا فورم صرف محکمہ کوآپریٹو ہے، اور اینٹی کرپشن کو ان تنازعات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔
انہوں نے مؤقف اپنایا کہ شکایت کنندہ نے محکمہ کوآپریٹو میں کیس ہارنے کے بعد وہی درخواست اینٹی کرپشن کو دے دی۔ ان کے مطابق اینٹی کرپشن گزشتہ تین برسوں کے دوران شہریوں کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا ادارہ بن چکا ہے، جہاں بے بنیاد درخواستوں پر انکوائریاں رجسٹرڈ کر کے شہریوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے۔
انہوں نے موجودہ کیس کو اینٹی کرپشن پنجاب کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کی بہترین مثال قرار دیا۔درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ سوسائٹی کے خلاف جاری انکوائری کو دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔
فیصلہ
عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد محکمہ اینٹی کرپشن کا کوآپریٹو سوسائٹیز کے تنازعات میں براہ راست انکوائری کا اختیار کالعدم قرار دے دیا۔










